متعلقہ موضوعات
اجارے کے مساٸل
1
سوال : مفتی صاحب یہ ارشاد فرمادیں کہ اگر کسی شخص نے ایک کام پراجارہ کیا اور وہ کام پھر اس نے کسی اور سے کروایا ،اور اجارہ اس نے خود وصول کیا ، ایساکرنا کیاجاٸزہے اور یہ بھی بتادیں کیا ایسے شخص کو اجارہ دیا جاۓ گا؟
30 اکتوبر، 2024Abdul Qudoos
Abdul Qudoos
A
جواب : اگر اجارہ اس شخص پر اس طرح ہوا کہ وہ کام اسے خود اپنے ہاتھ سےکرنا ہے تو اس کے لٸے جاٸز نہیں ہے کہ وہ کسی اورسے کام کرواۓ ، جب اس کے لٸے جاٸز نہیں تو وہ اس صورت میں اجارے کا بھی مستحق نہیں ہوگا، اور اگر ایسی کوٸی شرط نہیں ہے کہ کام اسے خود کرنا ہے بلکہ کام کروانے والے کو صرف اپنے کام سے غرض ہے کہ وہ ہوجاۓ ایسی صورت میں یہ شخص کسی اور سے کام کرواسکتا ہے اور یہ اجارے کا بھی مستحق ہوگا۔
صاحب بہارشریعت مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : ”جس سے کام کرانا ہے اگر اُس سے یہ شرط کرلی ہے کہ تم کو خود کرنا ہوگا یاکہہ دیا کہ تم اپنے ہاتھ سے کرنا ، اس صورت میں خود اُسی کو کرناضروری ہے ۔ اپنے شاگردیا کسی دوسرے شخص سے کام کرانا،جائز نہیں۔س۔۔اور اگر یہ شرط نہیں ہے کہ وہ خود اپنے ہاتھ سے کام کرے گادوسرے سے بھی کراسکتا ہے ، اپنے شاگرد سے کرائے یا نوکر سے کرائے یا دوسرے سے اُجرت پر کرائے،سب صورتیں جائز ہیں۔‘‘
(بہارِ شریعت،جلد 3،صفحہ، 119، مکتبۃ المدینہ کراچی)
واللہ تعالی اعلم بالصواب