متعلقہ موضوعات
متعلقہ سوالات
1
ہمارے یہاں جب اذان ہوتی ہے،تو سب کہتے ہیں کہ خاموش ہو جاؤ اور اذان کا جواب دو،بسا اوقات خاموش کروانے والے نماز کے لئے نہیں جاتے،لیکن اذان کا جواب دینا ضروری سمجھتے ہیں،اس حوالے سے شرعی رہنمائی فرمائیں ،کیا یہ عمل درست ہے۔
20 اگست، 2024مفتی محمد شعیب عباسی
جواب دہندہ
م
اذان کے دوران گفتگو اورکام کاج چھوڑ کر خاموش رہنااوراذان کا جواب دینے کا اہتمام کرنا چاہیئے،کہ فقہاء کرام نے فرمایا کہ جو اذان کے دوران گفتگو میں مشغو ل رہے،اس پر براخاتمہ ہونے کا خوف ہے،
البتہ مسئلہ یہ ہےکہ زبان سےاذان کاجواب دینےمیں فقہاء کرام کااختلاف ہے۔بعض کے نزدیک زبان سے جواب دینا واجب ،جبکہ بعض کے نزدیک مستحب ہےاور مستحب قول پر ہی فتوی ہے، نیز جماعت واجب ہونے کی صورت میں جواب بالقدم یعنی مسجد میں حاضر ہوکر جماعت میں شامل ہونا واجب ہے،لہذا مسجد کی جماعت چھوڑ کر صرف زبانی جواب دینے کو ضروری سمجھنا ،یہ کسی طرح درست نہیں۔