متعلقہ موضوعات
حرام و حلال
1
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیانِ عظام مندرجہ ذیل مسئلہ کے متعلق کہ قرآن کی آیات مبارکہ بلیک بورڈ پر لکھ کر مٹا سکتے ہیں شریعت کا کیا حکم ہے ؟رہنمائی فرمائیں۔
28 اکتوبر، 2024Abdul Qudoos
Abdul Qudoos
A
ضرورت و حاجت کے پیش نظر بلیک بورڈ یا وائٹ بورڈ پر قرآن کی آیات مبارکہ یا احادیث مبارکہ لکھ سکتے ہیں اور جب بچے اسے پڑھ لیں، محفوظ کر لیں، یاد کر لیں(ضرورت پوری ہوجائے) تو اسے مٹایا جاسکتا ہے فقہائے کرام نے اس کی اجازت دی ہے ۔ہاں جو بلیک بورڈ پر چاک سے لکھا جاتاہے اس چاک کے ذرات کو زمین پر نہ گرایا جائے۔اس حوالے سے جو پوسٹ سوشل میڈیا پر مشہور ہے کہ ” قیامت کی نشانیوں میں سے ہے کہ لوگ قرآنی آیات کو مٹائیں گے “ایسا ثابت نہیں ہے۔
فتاویٰ عالمگیری میں ہے :
”ولو محا لوحاً کتب فیہ القرآن و استعملہ فی امر الدنیا یجوز“
ترجمہ اور اگر اس نے تختی کو مٹا دیا جس کے اندر قرآن پاک لکھا گیا تھا اور اس نے اس (تختی) کو دنیا کے کسی کام میں استعمال کیا تو جائز ہے۔(فتاوی عالمگیری جلد 5 صفحہ 398 قدیمی کتب خانہ کراچی)