متعلقہ موضوعات
متعلقہ سوالات
فزیکل کاروبار کے مساٸل
1
مفتی صاحب یہ ارشاد فرمادیں میں مختلف کمپنیز میں اپنا مال دیتا ہوں، کمنپنی مینیجر مجھ سے میرا مال نکلوانے کے پیسے لیتے ہیں ،حالانکہ وہ وہاں سے سیلری بھی لیتے ہیں۔ کیا ان کا مجھ سے یہ رقم لینا درست ہے ؟
9 اکتوبر، 2024Abdul Qudoos
جواب دہندہ
A
مال اوکے(ok)کرنا، پاس کرنا مینیجرز کے اجارے میں شامل ہے، لہٰذا ان پرلازم ہے کہ یہ دیانت داری کے ساتھ درست مال کوپاس کریں اورنادرست مال کوريجیکٹ کردیں۔جومال اوکےہونےکےلیے ان کےپاس آئےگااس کی دوصورتیں ہوں گی:(1)یاتووہ مال نادرست ہوگا۔(2)یادرست ہوگا۔
(1)جونادرست ہے اس کوپاس کرنااپنے عہدے سے خیانت،جھوٹ اور اپنی کمپنی کو دھوکہ دیناہےاوریہ سب ناجائزوحرام ہے اوراگرپیسے لے کر ایسے مال کوپاس کرے گا،تویہ رشوت ہوگی کہ مال پاس کروانے والا اپناکام نکلوانے کے لیے پیسے دے رہاہے اور یہ لے رہا ہےاور رشوت دینا لینا باعث لعنت،ناجائز و حرام ہے۔
(2) جودرست مال ہےوہ ایسا ہے کہ کمپنی کے متعلق ہے ،اُس کے لیے نفع بخش ہے اور اُس کے وارے میں بھی ہے۔ اُسےپاس کرنے کے لیے پیسے لینابھی رشوت ہے۔
مزید یہ کہ مذکورہ اوصاف والا مال پاس کرنے پراِن کااجارہ ہے ،تو یہ کام دیانتداری سے کرنا ویسے ہی اِن پرواجب ہے، اوراپنا واجب ادا کرنے کے لیے پیسے وصول کرنا ،جائز نہیں ہے۔ اسی طرح مال تو درست ہے، لیکن کمپنی کو درست مال دینے والے زیادہ ہیں اور مال دینے والا یہ چاہتا ہے کہ میرا مال پہلے نکل جائے یا ان میں سے میرا ہی مال لیا جائے ، اس لیےمینیجر کو پیسے دیتا ہے،تو یہ بھی پہلی صورت میں داخل ہوگا کہ اب وہ جو پیسے دے رہا ہے ، اپنا کام نکلوانے کے لیے ہیں اور یہ بھی رشوت ہے۔