متعلقہ موضوعات
متعلقہ سوالات
وراثت کے احکام
1
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ میرے ابو اسپین میں مقیم تھے اور ان کی امی پاکستان میں تھی ابو کا آنا جانا ہوتا تھا اور ابو کا مکان اور بیوی بچے بھی پاکستان میں تھے ابو اسپین میں تھے اس وقت ان کی امی کا انتقال ہوگیا ابو دار الحرب میں تھے تو کیا اس صورت میں ہماری دادی کی جائیداد میں ابو کا حصہ ہوگا؟کیونکہ فقہ کی کتابوں میں لکھا ہوتا ہے کہ جب ایک شخص دارالحرب (کافروں کے ملک)میں ہوتو وہ مسلمان ملک میں رہنے والے شخص کی جائیدا د میں حصہ دار نہیں۔
17 اکتوبر، 2024Abdul Qudoos
جواب دہندہ
A
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
اسپین میں مقیم شخص پاکستان میں رہنے والی والدہ کی جائیداد میں حصہ دار ہے۔ کیونکہ اختلاف دارین (دوہ مختلف ممالک ایک دارلحرب اور دوسرا دارالاسلام)مانع ارث(وراثت کی ممانعت) کفار کے حق میں ہے مسلمانوں کے حق میں نہیں ہے۔(یعنی اگر ایک کافر ہو اور دوسرا مسلمان تو اب یہ دونوں مختلف ممالک ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے کے وارث نہیں) مسلمان اگرچہ ایک دارالحرب میں ہو اور دوسرا دارالاسلام میں ہو تب بھی دونوں ایک دوسرے کے وارث ہوں گے اور جائیداد میں انہیں ان کا شرعی حق ملے گا۔
مجمع الانھر میں ہے
”واختلاف الدارين حقيقة كالحربي والذمي أو حكما كالمستأمن والذمي أو الحربيين من دارين مختلفين كما مر“
ترجمہ:اختلاف دارین حقیقتا جیسے حربی اور ذمی کے درمیان اور حکما مستامن ، ذمی اور حربیوں کے درمیان ملک مختلف ہونے سے ہوگا جیسا کہ گزر چکا۔(مجمع الانھر ، ج4 ،ص 495،دارالکتب العلمیہ بیروت)
فتاوی شامی میں ہے
” اختلاف الدار لا يؤثر في حق المسلمين كما في عامة الشروح حتى أن المسلم التاجر أو الأسير لو مات في دار الحرب ورث منه ورثته الذين في دار الإسلام كما في سكب الأنهر “
ترجمہ:اختلاف دار مسلمانوں کے حق میں موثر نہیں ہے جیسا کہ عامہ شروح میں ہے حتی کہ اگر مسلمان تاجر اور قیدی دار الحرب میں فوت ہو جائے تو اس کے وہ وارث جو دارالاسلام میں رہ رہے ہیں وہ وارث ہوں گے جیسا کہ سکب الانہر میں ہے۔(رد المحتار، جلد 10 ، صفحہ 510 ، مطبوعہ پشاور)
فتاویٰ عالمگیری میں ہے
”واختلاف الدارین یمنع الإرث ولکن ھذا الحکم فيحق أھل الکفر، لا في حق المسلمین“
ترجمہ: اور اختلاف دارین مانع ارث ہے لیکن یہ حکم کفار کے حق میں ہے مسلمانوں کے حق میں نہیں ہے۔(فتاویٰ ہندیہ ، جلد 6 ، صفحہ 446، مطبوعہ کوئٹہ)
البحرالرائق میں ہے
”وكذلك اختلاف الدارين سبب لحرمان الميراث ۔۔۔ولكن هذا الحكم في أهل الكفر لا في حق المسلمين حتى إن المسلم إذا مات في دار الإسلام وله ابن مسلم في دار الهند أو الترك يرث“
ترجمہ:اسی طرح دومختلف ملک ہونا بھی میراث کی حرمت کا سبب ہیں لیکن اختلاف دارین کا یہ حکم اہل کفر کے لیے ہے مسلمانوں کے حق میں نہیں ہے یہاں تک کہ کوئی مسلمان دار الاسلام میں ہو اور اس کا مسلمان بیٹا دار الہند میں ہو یا اس کا ترکہ، تب بھی وہ وارث بنے گا۔(البحر الرائق ، ج8، صفحہ 557،دارالمعرفہ بیروت)
بہار شریعت میں ہے:
”ملکوں کا اختلاف غیر مسلموں کے حق میں ہے یعنی یہ کہ اگرایک عیسائی مسلمانوں کے ملک میں ہے اور اس کا رشتہ دار دوسرے ملک میں ہے جو دار الحرب ہے تو اب یہ ایک دوسرے کے وارث نہ ہوں گے۔اگر مسلمان تجارت کی غرض سے یا کسی اور غرض سے دارالحرب میں چلا گیا اور وہیں مر گیا یا مسلمان کو حربیوں نے قیدی بنا کر رکھ لیا اور وہ دارالحرب میں مر گیا تو اس کے رشتہ دار جو دارالاسلام میں ہیں اس کے وارث ہوں گے۔ پاکستان کے مسلمان اور وہ مسلمان جو ہندوستان ، امریکہ ، یورپ یا کہیں اور رہتے ہوں ، ایک دوسرے کے وارث ہوں گے۔ اگر وارث اور مورث مسلمانوں کے دو گروہوں سے تعلق رکھتے ہیں جو آپس میں نبرد آزماہیں اور دونوں کی الگ فوجیں ہیں تب بھی وہ ایک دوسرے کے وارث ہوں گے۔“(بہار شریعت، جلد 3، حصہ 20، صفحہ 1119 ، مکتبہ المدینہ کراچی)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
کتبـــــــــــــــــــــــــہ
ممبر فقہ کورس
05ربیع الثانی 1446ھ08 اکتوبر 2024ء
نظرثانی:
مفتی محمد انس رضا قادری
───◈☆◈ ───