متعلقہ موضوعات
متعلقہ سوالات
فزیکل کاروبار کے مساٸل
1
کیا فرماتے ہیں علمائےدین و مفیان ِشرع متین اس مسئلے کےبارےمیں کہ زیدنے چل پھرکرمحنت ومشقت کرکے ایک فیصدکمیشن پربکرکامکان خالدکے ہاتھ فروخت کردیا اوربکرنے ایک لاکھ بیعانہ بھی وصول کرلیا، لیکن پھرکچھ عرصے کے بعدخالد سے بقیہ پیسوں کابندوبست نہ ہونے کے بناپرباہمی رضامندی سےسوداختم ہوگیا۔سوال یہ ہے کہ زیدنے جوایک فیصدکمیشن لیاہے، کیاوہ کمیشن سودافسخ ہونے کی بناپرواپس لیا جائے گایانہیں؟
9 اکتوبر، 2024Abdul Qudoos
جواب دہندہ
A
دریافت کی گئی صورت میں زیدنے جوچل پھرکرمحنت ومشقت کرکے بکراورخالدکے مابین مکان کاسودامکمل کرواکرایک فیصد کمیشن لیاتھا،وہ سودا ختم ہونے پرواپس نہیں لیاجاسکتا،کیونکہ کمیشن سودامکمل کروانے کے عوض قرارپایاتھا اورزیدنے سودا مکمل کروادیاتھا،لہذاوہ کمیشن کامستحق ہوگیاتھا،اب سوداختم ہونے سے زیدکاکمیشن باطل نہیں ہوگا۔
فتاوی قاضی خان میں ہے
اسی میں ہے:”الدال فی البیع اذا أخذ دلالتہ بعد البیع ثم انفسخ البیع بینھما بسبب من الأسباب سلمت لہ الدلالیة لأن الأجر عوض مقابل بالعمل وقد تم العمل….کالخیاط اذاخاط الثوب ثم فتقہ صاحب الثوب فانہ لایرجع علی الخیاط بالاجر“ترجمہ:جب بروکرنے عقدکروانے کے بعداپناکمیشن لے لیا،پھران خریداراورفروخت کرنے والے کے درمیان کسی سبب سے بیع فسخ ہوگئی،توبروکرکوکمیشن دیاجائے گا،کیونکہ کمیشن عمل کے مقابل معاوضہ ہے اوربیشک عمل مکمل ہوچکا،جیسے درزی نے جب کپڑے سلائی کیے ، پھرکپڑے کے مالک نے اسے ادھیڑ دیا،توکپڑے کامالک درزی سے اجرت واپس نہیں لے گا۔
(فتاوی قاضی خان برھامش ھندیہ،کتاب الاجارات،ج02،ص327،مطبوعہ کوئٹہ)