متعلقہ موضوعات
اجارے کے مساٸل
1
کیا فرماتے ہیں علماۓ کرام اس مسٸلے کے بارے میں کہ بعض کمپنیاں اپنے employer کی ایک دن کی چھٹی مثلا: ہفتہ یا پیر کی چھٹی کرنے پر دو دن کی سیلری میں سے کٹوتی کرتے ہیں۔ یعنی ہفتے کی چھٹی کی تو وہ اتوار جس دن چھٹی ہوتی ہے اسکو بھی کٹوتی میںشامل کرتے ہیں۔ کیا کمپنیز کا یاکسی ادارے کایہ عمل شرعاجاٸز ہے؟
30 اکتوبر، 2024Abdul Qudoos
Abdul Qudoos
A
جواب : کمپنیز یا اداروں کا یا کسی بھی عام دکان والوں کااپنے اجیروں کے ساتھ اس طرح کرنا شرعا جاٸز نہیں ہے ۔ ایک دن کی چھٹی پر دو دن کی کٹوتی یہ مالی جرمانہ ہے ، اور مالی جرمانہ فقہ حنفی میں منسوخ ہے ۔ امام احمد رضا خان علیہ الرحمة الرضوان نے اپنے فتاوی میں اس کی تصریح فرماٸی ہے کہ منسوخ پر عمل حرام ہے۔ مزید یہ کہ عقد اجارہ میں ایسی شرط لگانا بھی جاٸز نہیں ۔اس سے عقد اجارہ ہی فاسدہوجاتا ہے ۔ اور ایسے عقد کو ختم کرنا عاقدین پر لازم ہے۔ لہذا اگر کسی نے اس طرح کا اجارہ کیا اور اس میں یہ شرط لگاٸی ہے تویہ عقد ختم کرے اور نٸے سرے سے ان شراٸط فاسدہ کو ختم کرکے دوبارہ عقد کرے۔
واللہ تعالی اعلم بالصواب۔