متعلقہ موضوعات
متعلقہ سوالات
حرام و حلال
1
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ کسی دوسرے شخص کا خط یا میسیج بغیر اس کی اجازت کے پڑھنا کیسا ؟
18 اکتوبر، 2024Abdul Qudoos
جواب دہندہ
A
کسی دوسرے شخص کا خط یا میسیج بغیر اس کی اجازت کے پڑھنا جائز نہیں ہے ، یہ فعل عقل و شرع دونوں کے خلاف ہے ؛ اگر کسی نے ایسا کیا تو وہ گنہگارہے ؛ اسے چاہیئے کہ فوراً بارگاہ ِ الہی میں توبہ کرے اور صاحب حق سے معافی بھی مانگے کیونکہ حدیث پاک میں ایسے شخص کے بارے میں فرمایا گیا کہ وہ جہنم کی آگ میں دیکھتا ہے اور عقلاً بھی یہ فعل ناپسندیدہ ہی ہے اس لئے کہ کوئی بھی شخص اس بات کو اچھا نہیں سمجھتا کہ اس کی ذاتی باتیں کسی دوسر ے شخص کے سامنے ظاہر ہو خواہ وہ اس کا کتنا ہی قریبی دوست یا عزیز ہی کیوں نہ ہو نیز بسا اوقات ایسا کرنا سخت لڑائی جھگڑے کا سبب بھی بن سکتا ہے لہذ ا اس مذموم فعل کا ارتکاب ہر گز ہرگز نہ کیا جائے ۔
رسول ِکریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا : من نظرفی کتاب اخیہ بغیراذنہ فانماینظرفی النارترجمہ: جس نے اپنے بھائی کے خط میں بغیر اس کی اجازت کے دیکھا تو یقینا وہ آگ میں نظر کررہا ہے ۔
(سنن ابی داؤد ؛ کتاب الصلوٰۃ ، باب الدعا ؛ حدیث نمبر 1485، مطبوعہ بیروت لبنان )
اس حدیث پاک کی شرح کرتے ہوئے علامہ محمود بن احمد بدر الدین عینی حنفی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : زعم بعض اھل العلم انہ ارادبہ الکتاب الذی فیہ أمانۃ وسرّ۔۔۔۔۔وقیل ھوعام فی کل کتاب لان صاحب الشیءاولی بمالہ ترجمہ : بعض اہل علم نے فرمایا کہ اس حدیث میں خط سے مراد وہ خط ہے جو بطور امانت کسی کے پاس رکھا ہو یا ایسا خط جس میں کوئی راز (secret) موجود ہو اور ایک قول کے مطابق یہ فرمان ہر خط سے متعلق ہے کیونکہ جو چیز کا مالک ہے وہی اس کا زیادہ حقدار ہے ۔
(شرح سنن ابی داؤد ؛ جلد نمبر 05 صفحہ نمبر 400؛ مطبوعہ الریاض)
سیدی اعلی حضرت علیہ الرحمہ کسی کا خط بغیر اجازت پڑھنے کے حوالے سے فرماتے ہیں : بکر کو اصلاً اختیار نہیں نہ خالد کے خطوط روکنے کا نہ دیکھنے کا اور وہ ضرور گنہگا ر ہوگا ۔ ( فتاوی رضویہ ، جلد نمبر 24، صفحہ نمبر 713، رضافاؤنڈیشن)
اللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہوسلم