متعلقہ موضوعات
متعلقہ سوالات
فزیکل کاروبار کے مساٸل
1
سوال 07: مفتی صاحب میرا یہ سوال ہے کہ میرے بال کافی بڑے ہوچکے ہیں، اور میرے بال بڑھتے بھی بہت جلد ہیں، اب ہمارے یہاں عورتوں کے بالوں کو خریدا اور بیچا جاتا ہے، کیا میں بھی اس طرح اپنے بال بیچ سکتی ہوں؟
6 اکتوبر، 2024Abdul Qudoos
جواب دہندہ
A
جواب : شرعی اعتبار سے انسانی بال کی خریدوفروخت جاٸز نہیں ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ انسانی بال مال نہیں ہیں چاہے وہ کسی مرد کے بال ہو یا عورت کے بال ہو بلکہ عورت کے بالوں کے معاملے میں اس کی تاکید زیادہ ہے کیونکہ عورت کے بالوں پر کسی غیرمحرم کی نظر بھی نہ پڑے اس کا اہتمام کرنا شریعت کو مطلوب ہے لہذا آپ اپنے بال نہیں بیچ سکتی ۔
علامہ اکمل الدین بابرتی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:’’ "جزء الآدمی لیس بمال۔۔۔ وما لیس بمال لا یجوز بیعہ‘‘" ترجمہ: آدمی کا جزو مال نہیں اور جو چیز مال نہ ہو،اس کی خریدوفروخت جائز نہیں۔(العنایۃ شرح الھدایۃ، جلد6، صفحہ 390، مطبوعہ کوئٹہ)