متعلقہ موضوعات
متعلقہ سوالات
میت اور جنازے کے احکام
1
سوال : مفتی صاحب مجھے یہ سوال کرنا تھا کہ غسل میت تدفین سے تھوڑی دیر پہلے دینا چاہیئے یا وفات کے بعد جلدی دینا ،کیا درست ہے ؟
16 اکتوبر، 2024Abdul Qudoos
جواب دہندہ
A
جواب : انتقال کے بعد میت کونہ صرف غسل دینے میں بلکہ اس کو کفن پہنانے اور دفنانے میں بھی جلدی کرنی چاہیئے کہ حدیث مبارک میں اس کی تاکید آئی ہے، البتہ اگر کسی سبب سے تأ خیر ہورہی ہے مثلاً نماز ِجنازہ دیر سے ہوگا کسی عزیز کا انتظار ہے اس لئے غسل ابھی نہیں دیا جارہا تو یہ بھی اگرچہ جائز ہے مگر بہترتعجیل؛ یعنی جلدی کرنا ہے ۔
نوٹ: غسل میت کے بعد اگر میت کے جسم سے نجاست وغیرہ نکلے تو دوبارہ غسل دینے کی حاجت نہیں فقط وہ نجاست صاف کر لی جائے یونہی اگر کفن آلودہ ہوجائے تو وہ بھی تبدیل کرنا ضروری نہیں۔
سرکار دوعالم نورِمجسم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:اسرعوا بالجنازۃ فان تک صالحۃ فخیر تقدمونھا وان تک سوی ٰذلک فشرّتضعونہ عن رقابکمترجمہ: جنازے کو تیزی سے لے چلو اگر وہ نیک ہے تو خیر ہے جسے تم آگے کر رہے ہو اور اگر نیک نہیں تویہ شر ہے جس کے بوجھ کو تم اپنی گردن سے اتاردو گے
( صحیح بخاری،کتاب الجنائز، ،حدیث نمبر1315صفحہ 444مطبوعہ بیروت)
ابو دوؤد شریف کی روایت ہے : سرکار اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :" وعجلوا فانّہ لا ینبغی لجیفۃ مسلم ان تحبس بین ظھرانی اھلہ" ترجمہ: اور(میت کی تدفین میں ) تم جلدی کرواس لئے کے مسلمان میت کا اس کے گھر والوں کے سامنے موجود رہنا مناسب نہیں ہے۔
( سنن ابی داؤد، الجزء الثانی حدیث نمبر 3159 صفحہ 261 مطبوعہ بیروت)
علامہ شیخ احمد طحطاوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : واذاتیقن موتہ (یعجّل بتجھیزہ )اکراماً لہترجمہ: جب اس (قریب المرگ) شخص کی موت کا یقین ہوجائے تو اس کی تجہیز ( موت سے دفن تک کی تیاری ) میں جلدی کرو(یہ حکم) میت کے اکرام کی وجہ سے ہے۔
( حاشیہ طحطاوی علی مراقی الفلاح جلد 02، صفحہ 200 مطبوعہ کراچی)