متعلقہ موضوعات
متعلقہ سوالات
میت اور جنازے کے احکام
1
سوال :میرا سوال یہ ہے کہ میت گھر میں یا کہی سامنے رکھی ہو تو کیا اس جگہ تلاوت قرآن کی جاسکتی ہے ؟
16 اکتوبر، 2024Abdul Qudoos
جواب دہندہ
A
جواب : اگر میت کو غسل دے دیا تو اس کے قریب بیٹھ کر تلاوت کرنے میں کسی قسم کی کراہت نہیں البتہ بعض علماء کے نزدیک غسل میت سے قبل میت کے قریب بیٹھ کر تلاوت کرنا مکروہ ہے جبکہ میت کا بدن چھپا ہوا نہ ہو۔
اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے سجدہ تلاوت کی بحث کے ضمن میں میت کے پاس قرأت کرنے کے حوالے سےکلام کرتے ہوئے لکھا: جن کے نزدیک موت سے بدن نجس ہوجاتا ہے اور غسل میت اسے نجاست حقیقیہ سے تطہیر کے لئے رکھا گیا ہے وہ قبل غسل، میت کے پاس بیٹھ کر تلاوت کو منع کرتے ہیں جب تک اسے بلکل ڈھانک نہ لیا جائے کہ نجاست منکشفہ کا قرب ہوگا ۔
(فتاوی رضویہ جلد 23 صفحہ 453 رضا فاؤنڈیشن)
صاحب تنویر الابصار میت کے پاس قرأت کرنے کے حوالے سے ارشاد فرماتے ہیں : کرہ قرأۃ القراٰ ن عندہ الی تمام غسلہترجمہ : میت کا غسل مکمل ہونے سے پہلے اس کے پاس تلاوت ِ قرآن مکروہ ہے ۔
درمختار میں ہے : وعبارۃ الز یلعی : تکرہ القراءۃ عندہ حتّٰی یغسل و عللہ الشرنبلالی فی امداد الفتاح تنزیھاً للقرآن عن نجاسۃ المیت لتنجسہ بالموتترجمہ : امام زیلعی کی عبارت ہے : میت کو جب تک غسل نہ دے دیا جائے اس کے پاس قرأتِ قرآن مکروہ ہے علامہ شرنبلالی نے اپنی کتاب ’’امدادالفتاح‘‘ میں اس کی وجہ ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : تاکہ قرآن پاک کو میت کی نجاست سے بچایا جائے اس لئے کہ موت کی وجہ سے میت ناپاک ہوچکی ہے ۔
علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : وذکر طحطاوی ان محل الکراھۃ اذا کان قریباً منہ اما اذا بعد عنہ بالقرأۃ فلا کراھۃ قلتُ: والظاھر انّ ھذا ایضاً اذا لم یکن المیت مسجی بثوب یستر جمیع بدنہترجمہ : علامہ طحطاوی نے ذکر کیا کہ اس کراہت کامحل یہ ہے کہ جب میت کے قریب بیٹھا ہو ، لیکن جب اس سے دور بیٹھا ہو اور قرآن مجید پڑھ رہا ہو تو پھر کراہت نہ ہوگی میں کہتا ہوں یہ کراہت بھی تب ہوگی جب میت کسی ایسے کپڑے سے جو اس کے سارے جسم کو چھپائے ، ڈھانپی ہوئی نہ ہو۔ (ردالمحتار علی الدرمختار، جلد 03، صفحہ 98-100 مطبوعہ کوئٹہ)
(فتاوی رضویہ ، جلد 23، صفحہ 453)