متعلقہ موضوعات
متعلقہ سوالات
1
بسا اوقات گھر میں دعوت کے موقع پر ،نماز کا وقت ہونے پر کہا جاتا ہے،کہ اتنے لوگ موجود ہیں،یہی پر جماعت کروا لیتے ہیں،جبکہ مسجد بھی کچھ فاصلے پر ہے،پوچھنا یہ ہے کہ مسجد کی جماعت چھوڑ کر گھر میں جماعت کروا سکتےہیں؟
8 اگست، 2024مفتی محمد شعیب عباسی
جواب دہندہ
م
مسجد میں اگربغیر اسپیکر کے اذان دی جائے ،تو شور و غل نہ ہونے کی صورت میں جہاں تک آواز جائے،اس مقام تک رہنے والے عاقل و بالغ ایسے مرض حضرات جو مسجد میں آنے پر قادر ہوں،اُن سب پر مسجد کی جماعت میں حاضر ہونا واجب ہے،بغیرعذر جماعت چھوڑنا یا گھر میں ہی اپنی جماعت قائم کرنا جائز نہیں۔
لہذا مذکورہ صورت میں بھی اگر بغیر اسپیکر کے گھر میں اذان کی آواز آتی ہو ،تو گھر میں جماعت قائم کرنا درست نہیں،سب کو مسجد میں جماعت سے نماز پڑھنے کی ترغیب دیں۔
اور اگر اذان کی آواز نہ آتی ہو ،تو گھر میں جماعت کروائی جا سکتی ہے،لیکن پہتر یہی ہے کہ مسجد کی جماعت میں حاضر ہوا جائے۔