متعلقہ موضوعات
متعلقہ سوالات
نماز
1
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے مین کہ جنابت کی حالت میں اذان دینا کیسا ہے؟
17 اکتوبر، 2024Abdul Qudoos
جواب دہندہ
A
الجواب بعون الملك الوهاب اللهم هداية الحق والصواب
پوچھی گئی صورت کا شرعی حکم یہ ہے کہ حالت جنابت میں دی گئی اذان مکروہ تحریمی ہوتی ہےکیونکہ وہ اس بات کا داعی بن جاتا ہے جس کا وہ جواب نہیں دیتا اور اس اذان کا لوٹانا مستحب ہے۔
فتاوی شامی میں ہے :
”( ويكره أذان جنب) لأنه يصير داعيا إلى ما لا يجيب إليه، وإقامته أولى بالكراهة۔۔۔۔۔وظاهر أن الكراهة تحريمية بحر.(ويعاد أذان جنب) ندبا۔۔۔۔ملخصاً“
ترجمہ:جنب کی حالت میں اذان دینا مکروہ ہے۔کیونکہ وہ اس بات کا داعی بن جاتا ہے جس کا وہ جواب نہیں دیتا۔ اور اس کی اقامت بدرجہ اولی مکروہ ہے۔۔۔۔اور ظاہر یہ ہے کہ یہ کراہت تحریمی ہے------حالتِ جنب میں اذان کو دہرانا مستحب ہے۔(ردالمحتار،جلد1،صفحہ392، الحلبي)
بہار شریعت میں ہے:
”خنثی و فاسق اگرچہ عالم ہی ہو اور نشہ والے اور پاگل اور نا سمجھ بچے اور جنب کی اذان مکروہ ہے،ان سب کی اذان کا اعادہ کیا جائے ۔“(بہار شریعت، اذان کا بیان، حصہ3، صفحہ 470، مطبوعہ مكتبة المدينه کراچی )
والله ورسوله اعلم عزوجل و صلي الله تعالى عليه وآله وسلم
كتبـــــــــــــــــــــــــــه
ممبر فقہ کورس
25ربیع الاول 1446 ھ /30ستمبر 2024 ء
نظرثانی :
مفتی محمد انس رضا قادری
───◈☆◈ ───