متعلقہ موضوعات
اجارے کے مساٸل
1
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ رات کو کاربار یا نوکری نہیں کرسکتے ہیں؟ جن کا کام ہی نائٹ شفٹ کا ہو یا وہ کام جو رات میں ہی ہوتے ہیں یا آفس میں دیر تک کام کرنا، ان میں رات کو کام کرنے والے افراد کا کام کرنا کیسا؟ کیا رات میں کام کرنا گناہ ہے؟
28 اکتوبر، 2024Abdul Qudoos
Abdul Qudoos
A
اللہ پاک نے رات کو نیند کے لئے اور دن کو کام و طلبِ معاش کے لئے بنایا جیسا کہ قرآن پاک کی کئی آیات کا مفاد ہےاور یہی معتاد بھی ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ دن میں سونا یا رات میں نوکری و ڈیوٹی کرنا، ناجائز و گناہ ہے، بلکہ رات میں کام اور دن میں آرام کرنا بھی بلا شبہ جائز ہے، دن میں آرام جیسے قیلولہ کرنا اور راتوں میں کام کرنا جیسے دوکانوں، بازاروں اور مکان کی حفاظت کے لئے رات میں چوکیداری کرنا اسی طرح کئی ایسے کام ہوتے ہیں جو دن میں پورے نہیں ہوپاتے بالخصوص جب دن چھوٹے ہوں اور راتیں طویل ہوں، تو دن میں پورے نہ ہونے والے کام رات میں کئے جاتے ہیں، فی زمانہ بھی کئی ایسے کام ہیں جو دن و رات بلاو قفہ جاری رہتے ہیں ان کو جاری رکھنے کے لئے ملازمین کی ضرورت رہتی ہے تاکہ کام نہ رکے، لہٰذا جو دن کے بجائے رات میں کام کریں، ان کو گناہ گار کہنا جائز نہیں۔ ہاں اگر کوئی کام ہی ناجائز ہو، تو وہ دن میں کیا جائے یا رات میں وہ بہر صورت ناجائز ہی رہے گا۔