متعلقہ موضوعات
متعلقہ سوالات
1
رمضان المبارک میں وتر پڑھتے ہوئے ،امام صاحب تکبیر قنوت کہنا بھول گئےاور رکوع کر لیا،کسی مقتدی نے لقمہ دیا ،تو امام صاحب واپس قیام کی طرف آئے ،پھر قنوت پڑھی اور آخری میں سجدہ سہو کر لیا،تو کیا یہ نماز درست ہوئی۔
3 اگست، 2024مفتی محمد شعیب عباسی
جواب دہندہ
م
جواب:
یہ اصول ذہن نشین رکھیں ،کہ غیر محل میں لقمہ دینے سے ،اس دینے والے کی نماز فاسد ہو جاتی ہےاور اگر امام صاحب وہ لقمہ لے لیں،تو امام صاحب کی بھی نماز فاسد ہو جائے گی۔
مذکورہ صورت میں جب امام صاحب بھولے سے تکبیر چھوڑ کا رکوع میں چلے گئے،تو ان کے لئے حکم یہ تھا کہ آخر میں سجدہ سہو کر لیتے ،ان کی نماز درست ہو جاتی۔
لہذا مقتدی کا اس مقام پر لقمہ دینا ،درست نہ تھا،جس سے مقتدی کی نماز فاسد ہو گئی اور کیونکہ امام صاحب نے وہ لقمہ لے لیا ،تو امام صاحب کی نماز بھی فاسد ہو گئی اور جب امام کی نماز فاسد تو سب مقتدیو ں کی نماز بھی فاسد ہو گئ،لہذا یہ نماز دوبارہ پڑھنی ہوگی،سجدہ سہو کافی نہ ہوگا۔