متعلقہ موضوعات
متعلقہ سوالات
1
کسی کو نماز کی رکعت میں شک ہو ،کہ دو پڑھی ہیں یا تین،تو ایسی صورت میں کیا کیا جائے؟
21 اگست، 2024مفتی محمد شعیب عباسی
جواب دہندہ
م
اگر تو یہ بالغ ہونے کے بعد پہلا واقعہ ہے،تو نماز کو توڑکر نئے سرے سے پڑھےیا پھرتھوڑا بہت سوچے ،جس طرف غالب گمان ہواسی کے مطابق عمل کرے،لیکن اس صورت میں بھی اس نماز کا اعادہ کیا جائے۔
اور اگر یہ کئے بار ہو چکا ہے،تو ایسی صور ت میں سوچ بیچار کرے ،جس طرف غالب گمان ہو ،اسی پر ؑمل کرے،مثلاً شک ہو ہےکہ دو ہوئی ہیں یا تین اور غالب گمان تین کی طرف ہی ہےکہ،تو تین ہی سمجھےاور نماز کو مکمل کرے۔
اور اگر کسی طرف غالب گمان نہ ہو ،تو کم رکعتوں کو شمار کرے ،مثلاً دویا تین میں شک ہواتودو شمار کرلے ،تین یا چار میں شک ہوا تو تین شمار کرلے اور اس صورت میں تیسری اور چوتھی دونوں رکعتوں میں قعدہ کرے کیونکہ تیسری رکعت کے چوتھی ہونے کا بھی احتمال ہے، نیز آخر میں سجدہ سہو بھی کرے۔
جہاں کہیں سوچ بیچار کا کہا گیا ہے،وہاں تین بار سبحان اللہ کہنے کی مقدار سے کم سوچا جائے گا،اگر تین مرتبہ سبحان اللہ کہنے کی مقدا ر تک سوچا گیا،تو ایسی صورت میں سجدہ سہو لازم ہوگا۔