متعلقہ موضوعات
متعلقہ سوالات
1
میں نماز پڑھ رہا تھااور قریب ہی کچھ دوست مزاق مستیاں کر رہےتھے،جنہیں دیکھ کر نماز میں میری ہنسی نکل گئی،کچھ دوستوں نے کہا ،تمہیں نماز بھی دوبارہ پڑھنی ہوگی اور وضو بھی کرنا ہوگا۔کیا ان کا کہنا درست ہے؟
22 جولائی، 2024مفتی محمد شعیب عباسی
جواب دہندہ
م
جواب سے پہلے یہ ذہن نشین رکھیں کہ،اس طرح ہنسنا کہ دوسروں تک آواز جائے،اسے قہقہہ کہتے ہیں اور اگر صرف خود کو آواز آئے،دوسرے نہ سن سکیں تو اسے ضحک کہتے ہیں اور اگر اپنے کانوں تک آواز نہ آئے ،تو اسے تبسم کہتے ہیں۔
اب مسئلہ یہ ہےکہ ،رکوع و سجود والی نماز جیسے پانچ وقت کی نماز اور جمعہ و عیدین وغیرہ میں بالغ اگر قہقہہ لگائے،تو نماز بھی ٹوٹ جائے گی اور وضو بھی اور اگر ضحک ہو تو صرف نماز ٹوٹے گی،وضو نہیں ،جبکہ صرف تبسم کی صورت میں نہ نماز فاسد ہوگی اورنہ وضو ٹوٹے گا۔
مذکورہ صورت میں چونکہ سائل تنہا نماز ادا کر رہا تھا،لہذا وضو تو کسی صورت نہیں ٹوٹے گا،نیزنماز کے حکم کے لئے ،غور کر لیں کہ آپ نے قہقہہ لگایاتھا،ضحک تھایا تبسم ،اُسی کے مطابق نماز کا حکم ہوگا۔