متعلقہ موضوعات
متعلقہ سوالات
1
بسا اوقات یہ دیکھا جاتا ہے کہ ،نماز کے دوران موبائل بجتا ہےاور لوگ نماز کی حالت میں ہی بند کرتے ہیں اور بند کرنے کے مختلف طریقے ہوتے ہیں،مثلاً کوئی ایک ہاتھ کا استعمال کر کے بند کر دیتا ہے،بعض اوقات دونوں ہاتھوں کا استعمال کیا جاتا ہےاور بعض تو ایسی بھی ویڈیوز دیکھی ہیں،جس میں نمازی کال ریسیو کر کے کہتے ہیں ،کہ میں نماز میں ہوں اور پھر کال کاٹ دیتے ہیں۔آپ سے گزارش ہے کہ یہ بتا دیں کہ اس میں سے کون سا طریقہ درست ہے۔
5 اگست، 2024مفتی محمد شعیب عباسی
جواب دہندہ
م
پہلے تو یہی عرض ہے کہ ،مسجد میں داخل ہونے سے پہلے ہی موبائل کو بندکر دیا جائے یاسائلینٹ موڈ پر لگا دیا جائے،لیکن اگر بھولے سے کھلا رہ گیا اور رنگ ٹون بج گئی،تو حکم یہ ہے کہ بغیر عمل کثیر کئے کال کاٹ دی جائے،تو کوئی مسئلہ نہیں اور اگر عمل کثیر ہو ،تو نماز ٹوٹ جائے گی،عمل کثیر کا مطلب یہ ہے کہ دورانِ نماز اس طرح کا عمل کرنا ،کہ دور سے دیکھنے والے شخص کو یہ گمان ہو کہ آپ نماز نہیں پڑھ رہے۔
نیزیہ بھی یاد رکھیں کہ ، نماز میں کلام کرنے سے بھی نماز فاسد ہو جاتی ہے۔
لہذا دوران ِ نماز موبائل بند کرنے کے لئے دونوں ہاتھوں کا استعمال کرنایا کال ریسیو کر کے بات کرنا،دونوں صورتیں جائز نہیں،البتہ ایک ہا تھ کا استعما ل کرتے ہوئے بند کیا جا سکتاہے۔
مزید یہ بھی یاد رکھیں،اگرموبائل کے بجنے کی وجہ سےکافی شور ہورہا ہو کہ جس کی وجہ سے نمازیوں کی نماز میں خلل واقع ہورہاہو،اور موبائل کو بغیر عمل کثیر کے بند کرنا بھی ممکن نہ ہو،تو اپنی اور دوسروں کی نماز کو خلل سے بچانے کی ضرورت کی وجہ سے نماز توڑکر موبائل بند کرنا ہوگااور پھر نئے سرے سے نماز شروع کرنی ہوگی۔