متعلقہ موضوعات
متعلقہ سوالات
طہارت کے مساٸل
1
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلے کے بارے میں کہ مجھے نماز کے انتظار میں بیٹھے بیٹھے اونگھ آگئی ، کیا میرا وضو باقی ہے یا دوبارہ وضو کرنا پڑے گا ؟
18 اکتوبر، 2024Abdul Qudoos
جواب دہندہ
A
آپ کا وضو باقی ہے کیونکہ اونگھ آنے سے وضو نہیں ٹوٹتا ہے اس لئے کہ اونگھ اس معمولی نیند کو کہتے ہیں جس سے بندہ غافل نہیں ہوتا نیز آپ بیٹھے بھی نماز کے انتظار میں تھے اور یہ حالت عموما غافل کرنے والی نہیں ہوتی ہے ۔
اونگھ ناقض وضو نہیں ہے اس کا بیان کرتے ہوئے علامہ ابن نجیم المصری (المتوفی970ھ) لکھتے ہیں : النُّعَاسَ ۔۔۔۔ الظَّاهِرُ أَنَّهُ لَيْسَ بِحَدَثٍ ترجمہ (اونگھ) ظاہر یہ ہے کہ اس سے حدث واقع نہیں ہوتا۔ (البحر الرائق شرح كنز الدقائق، جلد 01 ، صفحہ 41 ،مطبوعہ دار الكتاب اسلامی)
علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ اسی بات کو مزید وضاحت کے ساتھ بیان کرتے ہیں ۔ آ پ فرماتے ہیں : النُّعَاسُ لَا يَنْقُضُ الْوُضُوءَ، وَهُوَ قَلِيلُ نَوْمٍ لَا يَشْتَبِهُ عَلَيْهِ أَكْثَرُ مَا يُقَالُ عِنْدَهُ. ترجمہ : اونگھ سے وضو نہیں ٹوٹتا ہے ، اور اونگھ اس معمولی نیند کو کہتے ہیں جس سے بندہ اپنے پاس ہونے والی ا کثر باتوں سے غافل نہیں ہوتا ہے ۔
(ردالمحتار علی الدر مختار ، جلد 01، صفحہ 143، مطبوعہ بیروت)
اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : "اونگھ ناقضِ وضو نہںا جبکہ ایسا ہوشا ر رہے کہ پاس کے لوگ جو باتںھ کرتے ہوں اکثر پر مطلع ہو، اگرچہ بعض سے غفلت بھی ہوجاتی ہو"۔
(فتاوی رضویہ ، جلد 01، صفحہ 367، مطبوعہ رضا فاونڈیشن)
فتاوی یورپ میں اسی نوعیت کے سوال کا جواب دیتے ہوئے مفتی عبدالواجد قادری فرماتے ہیں : مطلقا نیند ناقض وضو نہیں ہےبلکہ نیند دو شرطوں کے ساتھ وضو کو توڑتی ہے (۱)سونے والے کے سرین زمین ، تختہ، سخت گدہ وغیرہ سے لگا ہوا نہ ہو (۲)سونے والا ایسی غفلت کی نیند سوجائے کہ اس کے اعضاء کے جوڑ ڈھیلے پڑجائیں ۔ اگر سونے والے میں یہ دو شرطیں پائی جائیں گی تو وضو ٹوٹ جائے گا ورنہ نہیں ۔
(فتاوی یورپ ، صفحہ 140، مکتبہ جام نور دہلی)
صاحب بہار شریعت مفتی محمد امجد علی اعظمی فرماتے ہیں : اُونگھنے یا بیٹھے بیٹھے جھونکے لینے سے وُضو نہیں جاتا ۔ (بہار شریعت، حصہ 03، صفحہ 308 مکتبۃ المدینہ)
کتبہ
ابو معاویہ عبدالقدوس مدنی
تاریخ:16-اکتوبر-2024