متعلقہ موضوعات
متعلقہ سوالات
آن لاٸن کاروبار اور جدید مساٸل
1
مفتی صاحب میرا سوال یہ ہے کہ ہماری ایک آنٹی گھر میں مختلف frozen itemبناتی ہیں، پھر سوشل میڈیا کے ذریعے اس کی تشہیر کرتی ہیں اور آرڈر آنے پر پھر کسٹمر کامال تیارکرتی ہیں۔ کیا اس طرح ان کا آن لاٸن آرڈر لینا، جبکہ سامان موجود نہیں ہے ، سامان کی خریداری آرڈر کے بعد کی جاتی ہے ، کیا یہ شرعا درست ہوگا۔
18 اکتوبر، 2024Abdul Qudoos
جواب دہندہ
A
جواب : اصطلاح شرع میں اس بیع کو بیع استصناع کہتے ہیں ، یعنی آرڈر پر سامان بنوانا۔ یہ کام شرعی اعتبار سے ہر اس شے میں ہوسکتا کے جسے عموما آرڈر پر بنوایاجاتا ہےاگرچہ سامان اس وقت ملکیت میں موجود نہ ہو، البتہ یہ ضروری ہے کہ کہ پہلے سب طےکرلیا جاۓ کہ جو مال بنوایا جاۓ گا وہ کیسا ہوگا، مقدار و تعداد کیاہوگی، قیمت کیا ہوگی، سامان مطلوبہ مقام تک کیسے پہنچے گا، اس کے چارجز الگ ہونگے یا ساتھ ہی شامل ہیں المختصر سب اتنا واضح کردیا جاۓ کہ خریدنے والے اور بیچنے والے کے درمیان تنازع کی کوٸی صورت نہ ہو۔
اعلی حضرت امام اہلسنت اس طرح کی بیع سے متعلق فرماتے ہیں : ”کسی سے کوئی چیز اس طرح بنوانا کہ وہ اپنے پاس سے اتنی قیمت کو بنادے یہ صورت استصناع کہلاتی ہے کہ اگر اس چیز کے یوں بنوانے کا عرف جاری ہے اوراس کی قسم و صفت و حال و پیمانہ و قیمت وغیرہا کی ایسی صاف تصریح ہوگئی ہے کہ کوئی جہالت آئندہ منازعت کے قابل نہ رہے یہ عقد شرعا جائز ہوتا ہے اور اس میں بیع سلم کی شرطیں مثلاً روپیہ پیشگی اس جلسہ میں دے دینا یا اس کا بازار میں موجود رہنا یا مثلی ہونا کچھ ضرور نہیں ہوتا۔“(فتاویٰ رضویہ، 17/597)