متعلقہ موضوعات
متعلقہ سوالات
فزیکل کاروبار کے مساٸل
1
سوال 03 : مفتی صاحب سے میرا سوال یہ ہے کہ زید نامی شخص اپنی دکان پر پرانا سامان بیچتا ہے ، اور سب اس بات کوجانتے بھی ہیں، ساتھ ہی وہ خریدار کو بتا بھی دیتا ہے کہ یہ چیز پرانی ہے ، اس میں کوٸی بھی خرابی ہوسکتی ہے ، کوٸی گارنٹی نہیں ہے ، آپ پہلے ہی سب دیکھ لیں، خریداری کے بعد کوٸی خرابی آٸی میری ذمہ داری نہیں ہوگی، کیا زید کاایسا کرنا جاٸز ہے ؟
3 اکتوبر، 2024Abdul Qudoos
جواب دہندہ
A
زید کا اس انداز سے سامان فروخت کرنا بالکل جاٸز ہے کیونکہ جب کسٹمرکو زید واضح لفظوں میں کہہ رہاہے کہ سامان پرانا ہے ، خرابی ہو سکتی ہے ، جو بھی خرابی ہوگی میری ذمہ داری نہیں ہے ،خریدنے سے پہلے ہی دیکھ لو، پھر کوٸی ابہام و خفاء نہیں رہتا، زید نے پہلے ہی تمام عیوب سے براءت کا اظہار کردیا ہے اور باٸع (بیچنے والے ) کا یہ عمل بالکل درست ہے۔
صاحب بہار شریعت مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں :”کوئی چیز بیع کی اور بائع نے کہ دیا کہ میں ہر عیب سے بری الذمہ ہوں ،یہ بیع صحیح ہے اور اس مبیع کے واپس کرنے کا حق (خریدنے والے کے پاس ) باقی نہیں رہتا۔ یوہیں اگر بائع نے کہ دیا کہ لینا ہو تو لو اس میں سو طرح کے عیب ہیں یا یہ مٹی ہے یا اسے خوب دیکھ لو کیسی بھی ہو میں واپس نہیں کروں گا یہ عیب سے براءت ہے۔جب ہر عیب سے براءت کرلے تو جو عیب وقت عقد موجود ہے یا عقد کے بعد قبضہ سے پہلے پیدا ہوا سب سے براء ت ہوگئی۔“ (بہار شریعت، جلد2، حصہ 11، صفحہ688، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
واللہ تعالی اعلم بالصواب