متعلقہ موضوعات
متعلقہ سوالات
میت اور جنازے کے احکام
1
سوال: مجھے یہ سوال کرنا ہے کہ اگر قبر پر کوئی درخت یا بیل لگی ہوئی ہو تو اس کو پانی دے سکتے ہیں یا نہیں؟
16 اکتوبر، 2024Abdul Qudoos
جواب دہندہ
A
جواب : گھاس ،بیل ( پھول دار پودا) اور درخت وغیرہ کو تر رکھنے کے لئے پانی کا ڈالنا درست ہے کیونکہ قبر پرتر گھاس اور نباتات کا ہونا یہ صاحب قبر کےلئے مفید ہے اس لئے کہ جب تک گھاس تر رہے گی اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرے گی اور اس طرح صاحب قبر سے عذاب میں تخفیف ہوگی اور اسے اس تسبیح سے انسیت حاصل ہوگی ، یہاں تک علماء فرماتے ہیں کہ" تر گھاس کا قبر ستان سے کاٹنا مکروہ ہے " کیونکہ اس سے حق میت کا ضائع کرنا ہے ہاں اگر خشک ہوجائے تو اس کے کاٹنے میں کوئی حرج نہیں ۔
صحیح بخاری شریف کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو قبروں کے پاس سے گزرے تو ایک آواز سنی پھر فرمایا ان دونوں پر عذاب ہو رہا ہے اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کی ایک تر شاخ منگوائی اور اس کو دو ٹکڑے کیا اور ہر قبر پر ایک ٹکڑا رکھا ۔ صحابہ کرام نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے ایسا کیوں کیا ؟ فرمایا : لعلہ ان یخفِّف عنھما ما لم ییبسایعنی: تاکہ ان دونوں پر عذاب میں تخفیف ہو جب تک یہ دونوں خشک نہ ہو۔
(صحیح بخاری، کتاب الجنائز ،حدیث نمبر1378صفحہ 464مطبوعہ بیروت)
علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : لما فی الاخضر من نوع حیاۃ وعلیہ فکراھۃ قطع ذلک وان نبت بنفسہ ولم یملک لان ّ فیہ تفویت حق المیتترجمہ :تر نباتات میں ایک قسم کی زندگی ہوتی ہے اور اسی بناء پر اس کا توڑنا مکروہ ہے اگر چہ وہ خود بخود اُگ آئے اور کسی کی ملکیت نہ ہو ۔اس لئے کہ اس میں میت کے حق کو فوت کرنا ہے ۔
( ردالمحتار علی الدرمختار ،جلد 03 صفحہ 145 مطبوعہ کراچی)