متعلقہ موضوعات
زکوة اور صدقات
1
سوال : مفتی صاحب یہ قرض حسن کیاہوتا ہے؟
25 اکتوبر، 2024Abdul Qudoos
Abdul Qudoos
A
جواب : قرض حسن کے عموما دو پہلو ہیں۔ ایک تو قرآن کریم میں بھی بیان ہوا کہ اللہ پاک کو قرض حسن دو ، اللہ پاک اسے تمہارے لٸے دگنا کردیگا۔ اور ایک پہلو ہے اللہ کے بندوں کو قرض دینا۔
اللہ پاک کو قرض حسن دینے سے مراد صاحب بیضاوی لکھتے ہیں: اللہ کے بتاٸے ہوۓ نیک کاموں میں اخلاص اور خوش دلی کے ساتھ اپنا مال خرچ کرنا۔
بندوں کو قرض دینے سے مراد ہے کسی ضرورت مند کو محض رضاۓ الہی کے لٸے کسی خوف و طمع اور صلے کی تمنا کے بغیر اپنے مال میں سے دے دینا، اور اگروہ مقروض واپس دینے پرقادر نہ ہوتو اسے معاف کردینا یا کم از کم مہلت دے دینا۔
صحیح مسلم شریف کی روایت ہے : حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم سے پہلی امتوں کا واقعہ ہے کہ فرشتوں نے ایک شخص کی روح سے ملاقات کی اور پوچھا " کیا تم نے کوئی نیک کام کیا ہے اس نے کہا نہیں فرشتوں نے کہا یاد کرو اس نے کہا میں لوگوں کو قرض دیتا تھا اور اپنے نوکروں سے کہتا تھا کہ مفلس کو مہلت دینا اور مالدار سے درگزر کرنا اللہ عزوجل نے فرمایا :اس سے درگزر کرو .
(تفہیم المساٸل ، جلد دوم، 332, ملتقطا)
لہذا قرض حسن جب بھی دے تو اس میں اخلاص ہو، غرباء کے ساتھ ہمدردی کا ذہن ہو تو ان شاء اللہ اس سے فاٸدہ ہوگا۔ دنیا میں بھی فاٸدہ ہے اور آخرت میں بھی اس کے اچھے ثمرات ہیں۔