متعلقہ موضوعات
متعلقہ سوالات
عقائد
1
سوال 05: زید جو کہ ایک میڈیکل شعبے سے تعلق رکھنے والا ہے ؛کہتا ہے کہ قرآن پاک اللہ تبارک وتعالی نے لوگوں کے لئے آسان فرمادیا ہے اورخود قرآن پاک میں فرمایا وَلَقَدْیَسَّرْنَاالْقُرْاٰنَلِلذِّكْرِفَهَلْمِنْمُّدَّكِرٍ"لہذا ہر مسلمان کو چاہیئے کے خود قرآن پڑھیں اور اسے سمجھیں اور اس کے مطابق عمل کریں کسی کے پاس جانے کی حاجت نہیں ہے ؛ کیا زید کا یہ کہنا درست ہے ؟
15 اکتوبر، 2024Abdul Qudoos
جواب دہندہ
A
جواب:جو آیت مبارکہ سوال میں ذکر کی گئی اس کے بارے میں مفسرین کے اقوال جاننے سے پہلےعرض یہ ہے کہ ؛ زید کو کہا جائےکہ وہ اپنے میڈیکل کے شعبے کی کتابیں پڑھ کر خود اپنا کلینک کھول لے ، کسی ماہر ڈاکٹر سے تربیت نہ لے؛ اور یونہی سب کا آپریشن کرنا شروع کردے ۔اگر زید اس پر راضی ہوبھی جاتا ہے تو یہ اس کی حماقت ہے اور کوئی دوسرا شخص یہ جانتے ہوئے کے زید جعلی ڈاکٹر ہے کبھی اس سے سردرد کی دوائی بھی نہیں لے گا ۔
شعبہ کوئی بھی ہواس سے متعلقہ کتابیں پڑھنے اور اسے سمجھنے پھر اس کے مطابق عمل کرنے کے لئے ایک رہنمااور استاد(teacher) کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اس بات کا کوئی بھی ذی شعور انکار نہیں کریگا اور جو انکار کریگا وہ ذی شعور نہیں ہوگا۔
عجیب بات تو یہ ہے کہ اس طرح کی باتیں وہ کرتے ہیں جن کو خود قرآن پاک تجوید کے ساتھ پڑھنا نہیں آتا۔ایسا شخص جب خود قرآن پڑھ کر خود ہی سمجھے گا اور پھراپنی سمجھ کے مطابق عمل کریگا تو وہ زمانہ میں ایک فتنہ ہی لائے گا ۔
زید کا یہ کہنا کے خود قرآن سمجھوکیونکہ قرآن آسان ہے یہ محض گمراہی و ضلالت کے سواء کچھ نہیں ؛ زید کو چاہیئے کے اس سے توبہ کرے اور اہل علم جو فہمِ قرآن و حدیث رکھنے والے ہیں ، علماء امت ومفتیان کرام ہیں ان کے پاس جاکرقرآن سیکھے اور اس پر عمل کرے ۔جہاں تک اس آیت "وَلَقَدْیَسَّرْنَاالْقُرْاٰنَلِلذِّكْرِفَهَلْمِنْمُّدَّكِرٍ"(سورۃ القمر ، آیت نمبر 17)کا تعلق ہے تو علماء نے اس کی وضاحت فرمائی ہے وہ یہ کہ قرآن یاد کرنے کے لئے آسان ہے ، جو اسے یاد کرنا چاہے اس کے لئے اللہ تبارک وتعالی نے اسے آسان فرمادیا ہے ۔
علامہ جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ کے استاذ گرامی حضرت علامہ شیخ جلال الدین محمد بن احمد المحلی علیہ الرحمہ اس آیت مبارک کی تفسیر میں ارشاد فرماتے ہیں : سھَّلناہ لِلحفظترجمہ :ہم نے قرآن کوحفط کرنے کے لئے یعنی یاد کرنے کے لئے آسان کردیا ہے ۔(تفسیر جلالین ، جلد 03صفحہ 435، مطبوعہ کراچی)
حضرت علامہ مفتی نعیم الدین مرادآبادی علیہ الرحمہ اسی آیت مبارک کے تحت فرماتے ہیں : اس آیت میں قرآن کریم کی تعلیم و تعلم اور اس کے ساتھ اشتغال رکھنے اور اس کو حفظ کرنے کی ترغیب ہے اور یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ قرآن یاد کرنے والے کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد ہوتی ہے اور اس کا حفظ سہل و آسان فرمادینے ہی کا ثمرہ ہے کہ بچے تک اس کو یاد کرلیتے ہیں سوائے اس کے کوئی مذہبی کتاب ایسی نہیں ہے جو یاد کی جاتی ہو اور سہولت سے یاد ہوجاتی ہو۔
(خزائن العرفان،صفحہ 977، مکتبۃ الدینہ)