متعلقہ موضوعات
متعلقہ سوالات
فزیکل کاروبار کے مساٸل
1
سوال: زید بہت زیادہ مقروض ہوچکا ہے، کیا وہ اپنے قرض کی اداٸیگی کے لٸے خود کو کسی جگہ قادیانی یا غیرمسلم ظاہر کرسکتا ہے؟
10 اکتوبر، 2024Abdul Qudoos
جواب دہندہ
A
زید کا اپنے قرض کی اداٸیگی کے لٸے خود کو قادیانی یا غیر مسلم ظاہر کرنا جاٸز نہیں ہے بعض علماء کے نزدیک تو زید خود ایسا کرنے سے مسلمان ہی نہیں رہے گا اگرچہ وہ یہ کہے کہ میں دل سے نہیں ہوا تھا۔ زید قطعا اس فعل شنیع کا خیال اپنے ذہن سے نکال دے اور اگر ایسا کرنے کا ارادہ بھی کیا تھا تو اب اس سے تجدید ایمان بھی کریں اور شادی شدہ ہے تو تجدید نکاح بھی کرے۔
امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں:’’بَیِّن وواضح کہ یہاں کوئی صورتِ اِکراہ نہ تھی اور بِلا اِکراہ کلمہ کفر بولنا خود کفر ، اگرچہ دل میں اس پر اعتقاد نہ رکھتا ہو ،
عامہ علما فرماتے ہیں کہ اس سے نہ صرف مخلوق کے آگے ،بلکہ عند ﷲبھی کافر ہوجائے گا کہ اس نے دین کو معاذ اللہ کھیل بنایا اور اس کی عظمت خیال میں نہ لایا۔
امام علامہ فقیہ النفس فخر الدین اوزجندی رحمۃ اﷲتعالیٰ علیہ خانیہ میں فرماتے ہیں:’’رجل کفر بلسانہ طائعاو قلبہ علی الایمان یکون کافراً ،ولا یکون عندﷲ مؤمنا ‘‘ ترجمہ:جس شخص نے زبان سے بخوشی کلمہ کفر کہا ،حالانکہ اس کا دل ایمان پر مطمئن ہے، تو وہ کافر ہوجائے گا اور وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مومن نہ ہوگا۔
حاوی میں ہے:’’من کفر باللسان وقلبہ مطمئن بالایمان فھو کافرولیس بمؤمن عند ﷲ ‘‘ترجمہ: جس نے زبان سے کفر بَکا اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہے، تو وہ کافر ہے اور اﷲتعالیٰ کے نزدیک وہ مومن نہیں ہے۔
“(فتاوی رضویہ ،جلد27،صفحہ125،126 ،رضا فاؤنڈیشن ،لاھور)
زید کو چاہئے کہ وہ اللہ عزوجل کی رحمت پہ بھروسہ رکھے ،دین اسلام کو ہرگز ہرگز نہ چھوڑے ،نماز ،روزہ وغیرہ فرائضِ اسلام کی پابندی کرے اور کام کی تلاش میں کوشش کرتا رہے ، اور اللہ عزوجل پر توکل کرے کہ رزق تو اسی نے عطافرمانا ہے اور وہ اپنے ڈرنے والے بندوں کو وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے گمان بھی نہیں ہوتا ،
جیساکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ﴿وَ مَنۡ یَّـتَّقِ اللہَ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا ۙ﴿۲﴾ وَّ یَرْزُقْہُ مِنْ حَیۡثُ لَا یَحْتَسِبُ ؕ وَ مَنۡ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللہِ فَہُوَ حَسْبُہٗ ؕ اِنَّ اللہَ بَالِغُ اَمْرِہٖ ؕ قَدْ جَعَلَ اللہُ لِکُلِّ شَیۡءٍ قَدْرًا﴾ترجمہ کنز الایمان :’’اور جو اللہ سے ڈرے اللہ اس کے لیے نجات کی راہ نکال دے گا ،اور اسے وہاں سے روزی دے گا جہاں اس کا گمان نہ ہو اور جو اللہ پر بھروسہ کرے، تو وہ اسے کافی ہے، بیشک اللہ اپنا کام پورا کرنے والا ہے، بیشک اللہ نے ہر چیز کا ایک اندازہ رکھا ہے ۔‘‘
(پارہ 28،سورۃ الطلاق ،آیت 2 ، 3)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم