متعلقہ موضوعات
متعلقہ سوالات
فزیکل کاروبار کے مساٸل
1
مارکیٹ میں کچھ لوگ ایسا بھی کرتے ہیں کہ جب کسی کو قرض لینا ہوتا ہے، تو وہ کسی دکاندار سے کہتا ہے کہ آپ کی دکان میں موجود یہ بائیک میں ادھار میں 60000 کی خریدتا ہوں اور رقم آہستہ آہستہ چھ مہینے میں آپ کو دوں گا اور پھر بائیک پر قبضہ بھی کرلیتا ہے ،پھر دکاندار وہی بائیک اس آدمی سے نقد میں 45000 کی خرید لیتا ہے ،تو کیا یہ عمل جائز ہے؟ دکاندار اسے بغیر پرافٹ کے قرضہ نہیں دینا چاہتااوراس شخص کو 45000 کی ضرورت ہوتی ہے ، تو یوں اسے اپنی مطلوبہ رقم مل جاتی ہے اور دکاندار کو نفع بھی مل جاتا ہے ، مگر یہ طریقہ کار شرعی طور پر درست ہے یا نہیں؟ اس کی راہنمائی فرمائیں۔
10 اکتوبر، 2024Abdul Qudoos
جواب دہندہ
A
پوچھی گئی صورت میں یہ طریقہ کار ناجائز و گناہ اور اس طرح نفع کمانا بھی ناجائز وحرام ہے ۔اس مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ بائع جب کوئی چیزبیچ دے، تو اس کی قیمت پر قبضہ کرنے سے پہلے پہلے وہی چیز اسی شخص یا اس کے وکیل سے کم قیمت میں نہیں خرید سکتا ، کیونکہ ابھی تک اس نے اس چیز کی اصل قیمت ادا ہی نہیں کی اور اصل قیمت کی ادائیگی سے پہلے ہی کم میں خریدنے سے دکاندار کو 15000 کا نفع ملے گا ، جو بِلاعوض حاصل ہورہا ہے اور یہ سُود کی ہی ایک صورت ہے ،لہٰذا اس طرح خریدنا اور نفع کمانا ،ناجائز وحرام ہے۔