متعلقہ موضوعات
قرآن و حدیث
1
مفتی صاحب جو direction ہیں وہ تو صرف چار ہیں۔ مشرق،مغرب،شمال،جنوب۔لیکن میں نے قرآن میں دیکھا کہ مشرق اور مغرب کے لفظ عربی گرامر کے حساب سے واحد، تثنیہ اور جمع بھی لاۓ گٸے ہیں، اس کی کیا حکمت ہے؟
25 اکتوبر، 2024Abdul Qudoos
Abdul Qudoos
A
جواب : آپ درست کہہ رہے ہیں قرآن کریم میں مشرق اور مغرب کے الفاظ مختلف صیغوں واحد، تثنیہ اور جمع کے ساتھ آٸیں ہیں۔ جہاں واحد کےصیغے استعمال ہوۓ وہاں صرف جہت (direction) مراد ہے ۔ اور جہاں تثنیہ کے صیغے ہیں وہاں مراد موسم کے اعتبار سے مشرق و مغرب مراد ہیں۔ یعنی سردی کے مشرق اور مغرب اور گرمی کے مشرق و مغرب۔ اسی طرح جہاں جمع کا صیغہ استعمال ہوا ہے وہاں سورج کے طلوع و غروب کے مقامات مراد ہیں۔ سورج سال میں مشرق کے مختلف مقامات سے طلوع ہوتا اور مغرب کے مختلف مقامات میں غروب ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے جمع کا صیغہ استعمال ہوا ہے۔ واللہ تعالی اعلم بالصواب