متعلقہ موضوعات
متعلقہ سوالات
1
میں مسجد میں آیا ،تو امام صاحب رکوع میں تھے،میں نے نیت کی اور فوراسے رکوع میں چلا گیا،میرے رکوع میں جاتے ہی امام صاحب قومہ کی طرف آ گئے،تو کیا وہ رکعت مجھے مل گئی؟
9 اگست، 2024مفتی محمد شعیب عباسی
جواب دہندہ
م
یہ یادرکھیں کہ رکوع کا ادنی درجہ یہ ہےکہ ہاتھ بڑھائیں ،تو گھٹنوں تک پہنچ جائیں،نیز مقتدی امام صاحب کے ساتھ رکوع میں ایک لمحہ بھی مل گیا ،تو وہ رکعت شمار کی جائے گی۔
لہذاآپ کے رکوع میں جاتے اور امام صاحب کے اٹھتے ہوئے اس ادنی درجہ کی مقدار میں اگر آپ امام صاحب کے ساتھ مل گئے ،تو رکعت مل گئی ورنہ نہیں۔
صورتِ مسئولہ میں اس شخص کو وہ رکعت مل گئی، اس و جہ سے کہ اگر کوئی شخص امام کے ساتھ رکوع پا لیتا ہے، تو اس کی وہ رکعت شمار ہو جائےگی، اگرچہ ادنیٰ مقدار کے اعتبار سے شرکت پائی جائےاورپھرفوراامام قیام میں چلاجائے اورمقتدی کوکچھ پڑھنے کاموقع ہی نہ ملے۔