متعلقہ موضوعات
متعلقہ سوالات
حرام و حلال
1
سوال : مفتی صاحب میری رہنمائی فرمادیجئے کسی ذریعے سے میرے پاس سود کی رقم آگئی ہے ، مجھے علم نہیں تھا کہ یہ سود ہے ، لیکن جیسے ہی پتا چلا میں نے فورا توبہ کرلی ہے ، لیکن پریشان ہوں کہ یہ رقم میرے پاس ہے اس کا کیا کروں ؟
18 اکتوبر، 2024Abdul Qudoos
جواب دہندہ
A
جواب : یہ اللہ پاک کی رحمت ہے کہ اس نے آپ کو سودی معاملے سے خلاصی پانے کی کی سوچ عطا فرمائی ہے اس پر اللہ پاک کا شکر ادا کرنا چاہیئے اور ہمیشہ کسی بھی ایسے معاملے کی طرف جائیں جس میں شبہ ہو یا اس بارے میں علم نہ ہو کہ یہ درست ہے یا نہیں تو سب سے پہلے کسی مستند عالم دین ، مفتی صاحب سے رہنمائی ، وہ کام کرنے سے پہلے لازمی لے لی جائے تاکہ سودی یا کسی حرام معاملے میں مبتلا ہونے سے بچ جائیں ۔ آپ کے پاس جو سودی رقم آگئی ہے اس کا شرعی حکم تو یہ ہے کہ جس سے آپ نے یہ سود کی رقم لی ہے اس کو واپس کردیں یا بغیر ثواب کی نیت کے آپ وہ رقم شرعی فقیر کو دے دیں ۔ آپ کو اختیار ہے ، بس کسی طرح اس رقم کو خود سے جلد ہی علیحدہ کرلیں ۔
فتاوی رضویہ میں امام اہلسنت ، امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ نے سودی رقم کا حکم بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : سُود یا اس جیسی اشیاء میں فسادِ مِلک اور خباثت کی بناء پر بوجہ قبضہ اس کا مالک بن گیا تو جس سےمال لیاگیا اب اس کی ملکیت باقی نہ رہی (بلکہ ختم ہوگئی) اس لئے کہ ایک چیز پر بیک وقت دو مِلک جمع ہونے محال ہیں (کہ اصل شخص بھی مالک ہو اور سودخور بھی۔ مترجم) لہٰذا مال ماخوذ کا واپس کرنا ضروری نہیں بلکہ اس سے علیحدگی واجب ہے خواہ بصورتِ رد (یعنی لوٹانے کے) ہو یا بصورتِ خیرات، جیسا کہ تمام املاکِ خبیثہ میں یہی طریقہ ہے۔ (فتاوی رضویہ ، جلد 23، صفحہ 551، مطبوعہ رضا فاونڈیشن)