متعلقہ موضوعات
متعلقہ سوالات
فزیکل کاروبار کے مساٸل
1
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں گارمنٹس کا کام کرتا ہوں کہ سامان تیار کر کے یا خرید کر دکانوں پر سپلائی کرتا ہوں ، میں اپنا مال بیچنے کے لئے مارکیٹ میں دکانوں میں جو سیلز مین ہوتے ہیں ان کو کمیشن دیتا ہوں تا کہ سر دست میرا مال فروخت کریں ، جبکہ دکان کے مالک کو اِس کمیشن کے بارے میں معلوم نہیں ہوتا کہ میں اُس کے ملازم کو کمیشن دیتا ہوں ، میرے مال کی کوالٹی میں کِسی طرح کی کوئی کمی نہیں ہوتی ، مجھے مجبورا کمیشن دینا پڑتا ہے ، اگر میں سیلز مین کو کمیشن نہ دوں تو وہ میرا مال فروخت نہیں کرتا ، اور یہ معاملہ صرف میرے ساتھ نہیں بلکہ مارکیٹ میں سب پارٹیوں کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے کیونکہ مال نہ بکنے کی صورت میں واپس کر دیا جاتا ہے ، شرعی رہنمائی فرمائیں کہ اس حالات میں سیلز مین کو کمیشن دینا درست ہے یا نہیں ؟
9 اکتوبر، 2024Abdul Qudoos
جواب دہندہ
A
صورتِ مسئولہ میں آپ کمیشن کے نام پر جو کچھ سیلز مین کو دیتے ہیں وہ کمیشن نہیں بلکہ رشوت ہے ، اوررشوت لینا ، دینا ناجائز وحرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے ، اورقرآن وحدیث میں اِس پر سخت وعیدات وارد ہوئی ہیں ۔
اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب آپ نے سامان دکاندار کو بیچ دیا تو وہ اب آپ کا نہ رہا بلکہ دکاندار کا ہو گیا لہٰذا اب آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ میں اپنا مال بیچنے پر کمیشن دے رہا ہوں ، بلکہ آپ اپنا کام نکلوانے کے لئے مال دے رہے ہیں کہ سیلز مین کو کچھ مال دوں تاکہ یہ سر دست ترجیحی طور پر میری پروڈکٹ سیل کریں تو مزید مال آئے اور اس طرح اپنی منشاء (مراد ، چاہت) پوری کرنے کے لئے جو مال دیا جاتا ہے وہ رشوت کہلاتا ہے۔