متعلقہ موضوعات
متعلقہ سوالات
جدید مسائل
1
سوال : مفتی صاحب مجھے اس بات کا جواب چاہیئے کہ آج کل ہمارے یہاں تکافل کمپنیاں کھلتی جارہی ہیں ، اور بہت سے علماء اسے انشورنس کا متبادل کہہ رہے ہیں ، یہ تکافل ہوتا کیا ہے ؟
22 اکتوبر، 2024Abdul Qudoos
جواب دہندہ
A
جواب : تکافل عربی زبان کا لفظ ہے ، اور یہ کفالہ سے ماخوذ ہے۔ کفالہ کے معنی ہیں کسی کی کفالت کرنا یا اس کا ضامن بننا اور تکافل کے لغوی معنی ہیں ایک دوسرے کی کفالت کرنا۔ اصطلاح میں تکافل سے مراد امداد باہمی اور آنے والے خطرات سے نبرد آزما ہونے کا ایسا طریقہ کار ہے جس کے تحت افراد معاشرہ وقف اور تبرع (احسان) کی بنیاد پر ایک وقف فنڈ قائم کرتے ہیں ، پھر ان میں سے کسی فرد یا افراد کا مالی نقصان ہوجائے ، تو مل جل کر اس کی تلافی کرتے ہیں یعنی سا نقصان کا بوجھ کسی ایک پر نہیں پڑتا بلکہ سب اس میں شریک ہوجاتے ہیں ۔ یہ ایک معروف فقہی تصور ہے اور اسی کی بنیاد پر اسلامی تکافل کمپنیاں وجود میں آئی ہیں ۔ اور تکافل کو روایتی بیہ (INSURANCE) کے متبادل طور پر متعارف کرایا گیا ہے ۔ (سرمایہ کاری کے شرعی احکام، از مفتی سید سابر حسین)