سوالنحو1 جواب
جواب دہندہ
نصاب الصرف میں جہاں شش اقسام مذکور ہیں وہاں آخر میں ایک تنبیہ ہے جس میں لکھا ہوا ہے
افعال و اسماء مشتقہ میں صیغہ واحد مذکر فعل ماضی مثبت معروف کو دیکھیں گے اگر وہ مزید فیہ ہے تو بقیہ صیغے بھی مزید فیہ ہوں گے اگر وہ مجرد ہے تو بقیہ صیغے بھی مجرد کہلائیں گے جیسے ضارب کا ماضی کا صیغہ ضرب مجرد ہے تو بقیہ صیغے بھی مجرد کہلائیں گے
البتہ حقیقت یہ ہے کہ ہر کلمہ چاہے مشتق ہو یا غیر مشتق فعل ہو یا نا ہو اگر اس میں کوئی بھی حرف زائد ہو تو مزید فیہ ہونا چاہئے اصول یہ ہے لیکن ہمارے ہاں ایسے رائج ہے جیسے اوپر لکھ کر دیا ہے