متعلقہ موضوعات
متعلقہ سوالات
قربانی
1
سوال : ایک شخص ملک پاکستان سے باہر ہے ، اور اس کی قربانی ملک پاکستان میں ہورہی ہے ، کیا اس کی قربانی پاکستان میں کرسکتے ہیں ؟
19 اکتوبر، 2024Abdul Qudoos
جواب دہندہ
A
جواب : ایسا شخص جو ملک پاکستان سے باہر ہے اور اس کی قربانی ملک پاکستان میں ہورہی ہے تو اس قربانی کے درست ہونے کے لئے یہ ضروری ہے کہ جس جگہ یہ شخص موجود ہے وہاں اور ملک پاکستا ن میں قربانی کا وقت موجود ہو ، اور جس جگہ یہ موجود ہے وہاں وقت قربانی گزر گیا اور پاکستان میں وقت قربانی باقی ہے تو اب اس شخص قربانی نہیں ہوگی ۔ یونہی اگر پاکستا ن میں وقت شروع ہی نہیں ہوا اور جس جگہ یہ شخص موجود ہے ہے وہاں وقت شروع ہوچکا ہے تو اس صورت میں بھی ، ابھی قربانی کرنا جائز نہیں ہے ۔
تفہیم المسائل میں مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن دامت برکاتہم العالیہ اسی طرح کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں کہ :قربانی کا اصل سبب وقت ہی ہے، یینر صاحبِ قربانی کے ایامِ قربانی ہں اور ایامِ قربانی کے تعنب کے لئے قربانی کے مقام کا نہںن بلکہ صاحبِ قربانی کا اعتبار ہوگا۔ البتہ دن اور رات یا نماز عدر سے پہلے اور بعد کے لئے قربانی کے مقام کا اعتبار ہوگا۔پس خلاصۂ کلام یہ کہ اگر یورپی ممالک مںا مقم مسلمانوں کے ایامِ نحر شروع ہو چکے ہںک، مگر پاکستان مںص ابھی ایامِ نحر شروع نہںک ہوئے، تو پاکستان مںک اُن کی طرف سے قربانی قبل از وقت ہونے کی وجہ سے ادا نہں۔ ہوگی اور اگر یورپی ممالک مںک مقمے مسلمانوں کے ایامِ نحر گزر چکے ہںا، اگرچہ پاکستان مںق ابھی ایامِ نحر باقی ہں ، تو پاکستان مں ان کی طرف سے قربانی بعد از وقت ہونے کی وجہ سے جائز نہںت ہوگی۔ ایامِ نحر گزرنے کے بعد قربانی کے جانورکا صدقہ واجب ہوتا ہے، جانور کا ذبح کرنا صرف ایامِ قربانی کے ساتھ مشروط ہے۔ لہٰذا یورپ ودیگر ممالک مںا مقمہ مسلمانوں کی پاکستان مںِ قربانی صرف اُس صورت مںج جائز ہوگی کہ صاحبِ قربانی جس ملک مںد مقم ہے، وہاں ابھی ایامِ قربانی جاری ہوں اور جہاں قربانی کی جارہی ہے، وہاں کے اعتبار سے بھی قربانی کے ایام جاری ہوں اور وقت بھی درست ہو۔
(تفہم المسائل، ج8، ص212، مطبوعہ ضا ء القرآن پبلی کشنز )