سوالنحو1 جواب
جواب دہندہ
محترم یہ عبارت تحذیر ہے تحذیر یعنی کسی شخص کو کسی چیز ڈرانا یا بچانا
یہ عربی زبان کا اسلوب ہے کہ وہ جلد بازی میں اس طرح کی تعبیر یا الفاظ استعمال کرتے ہیں جیسے آپ کی دی گئی مثال میں
کہ کوئی شخص جنگل میں کھڑا ہے اس کے پیچھے بہت تیزی سے دوڑتا ہوا شیر آ رہا ہے تو وہاں موجود شخص اس کو پوری بات بتانے یا کہنے کے بجائے صرف شیر شیر کہہ دے گا
تو عربی میں بھی ایسے ہی ہوتا ہے
موجودہ عبارت اصل میں ایاک و الأسد ہے
صن فعل انت ضمیر فاعل ایاک مفعول بہ یہ سب ملکر جملہ فعلیہ انشائیہ ہو جائیں
اور الأسد سے پہلے کوئی بھی مناسب فعل نکال لیں جیسے ابغض وغیرہ