متعلقہ موضوعات
متعلقہ سوالات
1
کیا ایک مسجد میں دو جماعتیں کروائی جا سکتی ہیں؟
30 جولائی، 2024مفتی محمد شعیب عباسی
جواب دہندہ
م
محلے کی جس مسجد کے لئے امام اور جماعت مقرر ہوں،جب اہل محلہ اس میں اذان و اقامت کے ساتھ مسنون طریقے سے جماعت قائم کر لیں،تو اب دوبارہ اسی انداز سے دوسری جماعت قائم کرنا مکروہ ہے۔
ہاں ! اگر امام کی قائم کردہ جماعت کی کیفیت کے خلاف بغیر اذان کے دوسری جماعت قائم کروائی جائے ،تو اس کی اجازت ہوگی،نیز پہلی جماعت کی کیفیت کے خلاف ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے،کہ محراب سے ہٹ کر جماعت قائم کروائی جائے،البتہ اگر کسی مقام پر دوسری جماعت کےقائم کرنے میں فتنے کا اندیشہ ہو ،تو پھر احتیاط ہی کی جائے۔
اورشارع عام کی مساجدجن کے نمازی مقررنہیں ہوتے،اسی طرح بازاروں اوراسٹیشن وغیرہ کی مساجد،جہاں لوگ آتے رہتے ہیں ، اورنمازپڑھ کرچلےجاتے،ہیں،ان کاحکم یہ ہےکہ وہاں اذان و اقامت کےساتھ بھی دوسری جماعت قائم کرنےمیں حرج نہیں ، بلکہ یہی افضل ہےکہ جوگروہ آئےوہ نئی اذان واقامت کےساتھ جماعت کرے