علم پر الف لام لگانا جائز نہیں سوائے دو صورتوں کے
پہلی صورت جب کوئی علم الف لام کے ساتھ ہی منقول ہو
یعنی علم بنانے سے پہلے الف لام لگا ہوا ہو اور الف لام کے ساتھ ہی علم بنا دیا جائے جیسے السموأل اللات العزی
دوسری صورت یہ ہے کہ کسی اسم پر الف لام اس لئے لایا جاتا ہے کہ اس کے اصل معنی کی طرف ساتھ میں اشارہ بھی ہو جائے
یعنی جب کوئی لفظ کسی کا علم بن جائے تو اس لفظ کے اصلی معنی کی طرف اشارہ کرنے کے لئے علم پر الف لام لگایا جاتا
لیکن اکثر ایسا ان اعلام میں کیا جاتا ہے جو اسماء مشتقہ سے منقول ہوں یا مصدر وغیرہ ہوں جیسے حارث نعمان عباس وغیرہ
لیکن یہ یاد رہے کہ دونوں صورتیں سماع پر موقوف ہیں قیاسی نہیں ہیں