حال کی دو پہچانیں لفظی ہیں
کہ حال اسم مشتق ہوگا اور منصوب ہوگا
مزید معنوی طور پر پہچان کے لئے ایک قاعدہ یاد رکھئے ہہ حال کیفیت ہوتی ہے یعنی وہ ذا الحال کی کسی کیفیت کو بیان کر رہا ہوتا ہے
مثلا زید ضرب بکرا قائما زید نے بکر کو کھڑے ہونے کی کیفیت میں مارا اب اگر زید کھڑا تھا تو یہاں قائما زید کا حال ہے اور اگر بکر کھڑا تھا تو بکر کا حال ہوگا اور قائما مارنے والے یا مار کھانے والے کی ایک کیفیت بتا رہا ہے
تو یہی قاعدہ ذہن میں محفوظ فر ما لین