سوالنحو1 جواب

و علئ قد تکون بمعنی الباء کی ترکیب میں باء مضاف الیہ ہے تو اس پر الف لام ہے لیکن اسی طرح قد تکون بمعنی فی کی ترکیب میں فی مضاف الیہ ہے تو لہذا اس پر بھی الف لام ہونا چاہے تھا لیکن ادھر اس پر الف لام کیوں نہیں ہے؟

Saira Khalid27 نومبر، 2024

جواب دہندہ

Abu Sufyan Muhammad Rashid madani
Abu Sufyan Muhammad Rashid madani

اسلامک ڈیسک معاون

Sadiq Abad

·

در اصل الف لام آنا اسم کا خاصہ ہے اور جبکہ حروف اسم نہیں ہوتے اور یہ ہوتے بھی مبنی الاصل ہیں، جن میں تبدیلی نہیں کی جا سکتی، البتہ جب انہیں کسی جگہ معین کر کے ان کی وضاحت کی جا رہی ہوتی ہے تو یہ معین ہونے کی وجہ سے اسم معرفہ بن جاتے ہیں۔۔ اور وہ حروف جو ایک حرفی ہوتے ہیں انہیں کھول کر اور بنفسہ دونوں طرح لکھا جاتا ہے۔۔۔ جیسے لام، با، تاء وغیرہ یوں انہیں جب کھول کر لکھا جاتا ہے تو یہ معرب میں چلے جاتے ہیں۔۔۔ اور ان پر اسم معرب والے احکام جاری ہوتے ہیں اور یوں حرف سے اسم میں تبدیل ہونے کی وجہ سے ان پر الف لام یا تنوین دونوں میں سے کچھ بھی داخل ہو سکتا ہے۔۔۔۔ جبکہ ایک حرف سے زائد والے حروف کھول کر نہیں لکھے جاتے اس لیے ان کی تعیین صرف انہیں معین کر کے بیان کرنے سے ہی وہ اسم علم قرار پاتے ہیں۔۔ وہاں الف لام کے ذریعے انہیں معرفہ کرنے کی حاجت نہیں پڑتی۔