سوالنحو1 جواب
جواب دہندہ

در اصل اصول تو یہی ہے کہ جمع قلت کے لیے وضع کیے گئے الفاظ جمع قلت پر اور کثرت والے الفاظ جمع کثرت پر ہی بولے جائیں، لیکن کبھی کسی مناسبت کی وجہ سے قلت کی جمع کثرت کے لیے اور کثرت کی جمع قلت کے لیے استعمال ہوتی ہے۔۔
جیسے نور الایضاح کی پہلی عبارت "المیاہ التی یجوز بھا التطھیر سبعۃ میاہ" ہے۔ یہاں میاہ جمع کثرت کا وزن ہے لیکن سات کا عدد قلت کے لیے۔۔تو یہاں علما نے فرمایا کہ پانی کی اقسام تو سات ہوں گی لیکن پانی کی کثرت کی وجہ سے یہاں جمع کثرت کا وزن استعمال ہوا ہے۔