قربانی کے جانور میں ایک سے زیادہ افراد شریک ہوں،تو ہر شخص کی نیت، حصولِ ثواب اور عبادت کی ادائیگی کی ہونی چاہیئے۔ اگر کسی ایک کا ارادہ بھی دنیاوی فائدہ حاصل کرنے کا ہو، تو تمام کی قربانی ضائع ہوجائے گی۔ کیونکہ اس مقام پر شریعت نے تمام شرکاء کو ایک عمل، یعنی جانور کو ذبح یا نحر کرنے میں جمع فرمادیا ہے۔ لہذا ایک کی خراب نیت، دوسرے کی قربانی ضائع کرنے کا سبب بن جائے گی۔ چنانچہ اگر کسی کے بارے میں معلوم ہوجائے کہ اس کا ارادہ ثواب حاصل کرنے کا نہیں،تو اسے قربانی کے جانور میں شریک نہ کیا جائے۔