اسلام علیکم
قانون ہے کہ اسم میں دو علامت تانیث اس وقت ممنوع ہیں جب وہ ایک جنس سے ہوں، تو ضاربتات میں یہ علامات تانیث الگ جنس سے ہیں ایک واحد کی ہے ایک تثنیہ کی پہر یہاں قانون جاری کرکے ضاربات کیوں بنایا گیا ہے ؟
دونوں علامت تانیث ایک ہی ہیں جنس سے مراد یہ جیسے دو تاء کا جمع ہونا یا دو الف مقصورہ یا ممدودہ کا جمع ہونا ہے
اور تاء واحد کی ہو جمع کی ہو فعل کی یا کسی بھی کی ہو جب وہ علامت تانیث ہے تو وہ ایک جنس ہوگی