متعلقہ موضوعات
متعلقہ سوالات
عقائد
1
سوال 11: مفتی صاحب یہ ارشاد فرمادیجئے کہ اگر کوئی شخص اپنے بچوں کو قرآن پاک کی تعلیم کے لئےبد مذہب استاد یا بدبذہبوں کے مدرسے میں بھیجے تو اسے کیسے سمجھایا جائے ؟
15 اکتوبر، 2024Abdul Qudoos
جواب دہندہ
A
جواب : یہ مسئلہ واقعۃ قابل غور ہے کے لوگ ہر ہر معاملے میں بہتر سے بہتر کا انتخاب کرتے اور اس بارے میں غور و فکر سے کام لیتے ہیں لیکن دینی و مذہبی تعلیم کے لئے اس بارے میں بدقسمتی سے بہت کم سوچا جاتا ہے یاد رکھئے ؛ اسلامی تعلیمات کے مطابق بدمذہبوں کے ساتھ بیٹھنے،ان سے سلام و کلام کرنے کی سختی سےممانعت ہے چہ جائیکہ ان کو استاد بنانا،کسی بدمذہب کو استاد بنانا یا اپنے بچوں کو ان کے مدرسےمیں تعلیم حاصل کرنے کے لئےبھیجنا ہرگز جائز نہیں، کہ بدمذہب سے حاصل کیا ہواعلم بےدینی ہی لائیگا اس لئے کہ استاد کی صحبت بچوں پر اثر انداز ہوتی ہے اس طرح بچے کا پاکیزہ اور ستھرا ذہن بے دینی کی طرف مائل ہو کر بد عقیدگی اختیار کر لے گا ، خود بھی گمراہ ہوگا اور دوسروں کی گمراہی کا سبب بھی بنے گا۔ علماء فرماتے ہیں : تلوار کے فتنے سے زیادہ بڑا فتنہ علم کا فتنہ ہے ۔خونخوار ظالم ایک بندے کی زندگی ختم کردیتا ہے مگر فتنہ گر گمراہ استادو عالم ہزار خاندانوں کی روحانی زندگی تباہ کر ڈالتا ہے۔
قرآن مجید میں اللہ رب العٰلمین ارشاد فرماتا ہے: واما ینسینک الشیطٰن فلا تقعد بعدالذکریٰ مع القوم الظلمین ترجمہ کزالایمان: اور جوکہیں تجھے شیطان بھلادے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔
(پارہ 07 سورۃالانعام آیت نمبر68)
حدیث مبارک میں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: ایاکم وایاھم لایضلونکم ولا یفتنونکمیعنی: تم اپنے آپ کو ان سے جدا رکھو اور اور ان کو اپنے سے دور رکھوایسا نہ ہو کہ وہ تمہیں گمراہ کردیں اور فتنوں میں ڈال دیں۔(مسلم شریف، ، صفحہ 12مطبوعہ دارالحضارہ النشر والتوزیع)
سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں تک ارشاد فرمایا :وان لقیتموھم فلا تسلمواعلیہمترجمہ: جب ان بدمذہبوں سے ملو تو ان کو سلام نہ کرو۔(ابن ماجہ،حدیث نمبر 92 مطبوعہ ہ دارالحضارہ النشر والتوزیع)
غور کریں جب ان بد مذہبوں سے سلام کر نے کا منع فرمادیا گیا تو ان سے تعلیم لینا یا انہیں اپنا استاد بنانا کیسے درست ہو سکتا ہے۔ حضرت ابن سیرین علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : ان ھذالعلم دین فانظروا عمن تأخذون دینکمیعنی : یہ علم ،دین ہے۔ تو دیکھ لو کہ اس کو کس سے حاصل کررہے ہو۔
(مشکٰوۃالمصابیح،کتابالعلم،جلد01مطبوعہ کراچی)
اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں مفتی اعظم مفتی محمد وقارالدین علیہ الرحمہ وقار الفتاویٰ میں ہے ارشاد فرماتے ہیں کہ: جس کے عقیدے میں کچھ خرابی ہے اس سے بچوں کو تعلیم دلانا جائز نہیں ، اس لئے کہ استاد کی صحبت کا اثر بچوں پر پڑتا ہےاور وہ خالی الذھن بچوں کو اپنے عقائد بتا کر گمراہ کر دیتا ہے۔
(وقارالفتاویٰ جلد 01 ص 312 مطبوعہ کراچی)