متعلقہ موضوعات
متعلقہ سوالات
قربانی
1
سوال : کیا اسلامی شریعت میں بھینس کی قربانی کرنا جائز ہے ؟
19 اکتوبر، 2024Abdul Qudoos
جواب دہندہ
A
جواب : بھینس کی قربانی بالکل جائز ہے کیونکہ یہ گائے کی جنس سے ہی ہے ، فقہائے کرام کی تصریحات بھینس کی قربانی کے جواز پر موجود ہیں ۔
سننِ ابو داؤد میں ہے:عن جابر بن عبد اللہ، أن النبي صلى اللہ عليه وسلم قال:البقرة عن سبعة، والجزور عن سبعة ترجمہ: حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:گائے سات افراد کی طرف سے اور اونٹ بھی سات افراد کی طرف سے (قربان ہو سکتاہے )۔
(سننِ ابو داؤد ،کتاب الضحايا ، ،جلد2صفحہ 40 ،مطبوعہ لاہور)
حدیثِ پاک میں"بقرۃ" کا لفظ استعمال کیا گیا اور بقرۃ ایک جنس ہے جس کے تحت مختلف قسم کے جانور آتے ہیں،ان میں سے ایک جاموس یعنی بھینس بھی ہے ،جیساکہ لسان العرب میں ہے:"البقر جنس والجاموس نوع من البقر" ترجمہ:گائے جنس ہے اور اسی کی قسم جاموس یعنی بھینس ہے۔
(لساب العرب ،جلد 6 ،صفحہ 51 ،مطبوعہ دار الکتب العلمیہ،بیروت)
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں:"حقیقت یہ ہے کہ علماء کے نزدیک بھینس کا گائے کی ہی نوع میں ہونا ثابت ہوا ،تو انہوں نے کہا کہ قرآن کا لفظِ بقر بھینس کو شامل ہے۔ "
(فتاویٰ رضویہ ،جلد20،صفحہ 401،مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن ،لاھور)