سوالنحو1 جواب
جواب دہندہ

فعل پر کسرہ اور تنوین اس لیے نہیں آتی کہ یہ دونوں اسم کی خاص علامات ہیں۔
کسرہ (جر): جر اسم کا اعراب ہے، کیونکہ جر کا مطلب ہے کسی اسم کا حرفِ جر یا مضاف کی طرف نسبت پانا، اور یہ نسبت صرف اسم میں ممکن ہے۔ فعل نہ مضاف الیہ بنتا ہے، نہ حرفِ جر کا مدخول، اس لیے فعلِ مضارع کو رفع، نصب اور جزم تو ملتے ہیں مگر جر نہیں ملتا۔
تنوین: تنوین اسم کے منصرف (متمکن) ہونے کی علامت ہے، یعنی اس کی خفت اور اسمیت پر دلالت کرتی ہے۔ فعل اسم سے ثقیل ہے اور اس میں اسمیت نہیں، اس لیے تنوین اس پر داخل نہیں ہوتی۔