متعلقہ موضوعات
متعلقہ سوالات
آن لاٸن کاروبار اور جدید مساٸل
1
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ آن لائن فری لانسنگ یا دیگر آن لائن کام میں اسکلز پیش کرتے ہیں لیکن اکثر یہ کام فارن کنٹری کے انگریز کرواتے ہیں لہذا اعتماد بنا رہے اور کام زیادہ ملے اس لیے کسی انگریز کے نام سے پروفائل بنا دی جاتی ہے اور ملک اور نام وغیرہ اور تصویر وغیرہ بھی فارن سیٹیزن والی لگائی جاتی ہیں تاکہ وہ اپنے ملک کا اپنی قوم کا سمجھ کر ہم پر اعتماد کرے پھر یوں ان کا کام لے کر انہیں مطلوبہ کام کرکے دے دیا جاتا ہے تو اس طرح شناخت بدل کر ان سے کام لینا یا کروانا کیسا اس کی آمدنی کا کیا حکم ہوگا؟
24 اکتوبر، 2024Abdul Qudoos
جواب دہندہ
A
فیک آئی ڈی بنانا اور اپنا نام وغیرہ غلط بتا کر کام لینا یہ جھوٹ اور دھوکا ہے جس کی مذمّت میں کثیر احادیث مبارکہ موجود ہیں پھر ایسا انگریزی نام رکھنا جس سے بندہ مسلمان نہیں بلکہ غیر مسلم ظاہر ہو یہ تو اور زیادہ قبیح ہے۔ نیز کافر کے ساتھ بھی جھوٹ بولنا، بدعہدی کرنا اور دھوکا دینا ناجائز و حرام ہے۔پھر اگر اس طریقہ کار سے جو کام کیا اس میں موسیقی و خواتین ودیگر شرعی خرابی نہ ہو تو اس کام کو کرنا جائز ہے اور اس کی آمدنی حلال ہے اور اگر یہ کام ناجائز ہے تو اس کی آمدنی بھی جائز نہیں ہے کہ یہ گناہ پر معاونت ہے۔
یہ کام کسی اور سے کروانے کا حکم یہ ہے کہ اگر کام دینے والے نے یہ شرط رکھی کہ اسے خود یہ کام کرنا ہوگا تو اب یہ کام کسی اور سے کروانا جائز نہیں ہے اور اگر یہ شرط نہیں ہے تو اب اسے اختیار ہے جس سے بھی چاہے یہ کام کرواسکتا ہے۔
المعجم الصغیر میں ہے :
"”قال رسول اللہ صلى اللہ عليه وآله وسلم: من غشنا فليس منا ، والمكر والخديعة في النار“"
ترجمہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:جس نے ہمیں دھوکا دیا وہ ہم میں سے نہیں ، اور مکرو فریب اور دھوکا دہی جہنم میں (جانے کا سبب) ہیں ۔(المعجم الصغير للطبرانی، جلد2، صفحہ 37، المكتب الإسلامي ، دار عمار ، بيروت)
فیض القدیر میں ہے :
"”والغش ستر حال الشيء“"
ترجمہ : کسی چیز کی (اصلی) حالت کو چھپانا دھوکا ہے۔(فیض القدیر، جلد6، صفحہ 158، رقم الحدیث 8879، المكتبة التجارية الكبرى ، مصر)
فتاوی رضویہ میں ہے:
” غَدْر (دھوکا) و بدعہدی مطلقًا سب سے حرام ہے مسلم ہو یا کافر ذمی ہو یا حربی مستامن ہو یا غیر مستامن اصلی ہو یا مرتد ۔“(فتاوی رضویہ، جلد 14، صفحہ 140، رضا فاؤنڈیشن ، لاھور )
بہار شریعت میں ہے:
”جس سے کام کرانا ہے اگر اُس سے یہ شرط کرلی ہے کہ تم کو خود کرنا ہوگا یاکہہ دیا کہ تم اپنے ہاتھ سے کرنا اس صورت میں خود اُسی کو کرناضروری ہے اپنے شاگردیا کسی دوسرے شخص سے کام کرانا جائز نہیں اور کرادیاتو اُجرت واجب نہیں اس صورت میں سے دایہ کا استثناہے کہ وہ دوسری سے بھی کام لے سکتی ہے۔ اور اگر یہ شرط نہیں ہے کہ وہ خود اپنے ہاتھ سے کام کریگادوسرے سے بھی کراسکتا ہے اپنے شاگرد سے کرائے یا نوکر سے کرائے یا دوسرے سے اُجرت پر کرائے سب صورتیں جائز ہیں۔“(بہار شریعت،جلد3،حصہ14،صفحہ119،مکتبۃ المدینہ،کراچی)