متعلقہ موضوعات
متعلقہ سوالات
حرام و حلال
1
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے یہاں غیر مسلم رہتے ہیں ہم لوگوں کے آپس میں بہت اچھے تعلقات ہیں جب ان کے یا ہمارے یہاں شادی ہوتی ہے ہم لوگ آپس میں بھی ایک دوسرے کی دعوت کرتے ہیں تو ایسی صورت میں غیر مسلم کے یہاں دعوت کھانا کیسا؟
22 اکتوبر، 2024Abdul Qudoos
جواب دہندہ
A
کھانا کھانے کا تو بعد میں پوچھنا چاہیے اولا یہ پوچھیں کہ کیا ان کے ساتھ تعلقات دوستانہ رکھ سکتےہیں یا نہیں؟
کفار اور غیر مسلموں سے دوستی کے متعلق اللہ کریم نےارشاد فرمایا:(اِنَّمَا یَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِیْنَ قٰتَلُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ اَخْرَجُوْكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ وَ ظٰهَرُوْا عَلٰۤى اِخْرَاجِكُمْ اَنْ تَوَلَّوْهُمْۚ-وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ)
ترجمہ کنزالایمان: اللہ تمہیں انہی سے منع کرتا ہے جو تم سے دین میں لڑے یا تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا یا تمہارے نکالنے پر مدد کی کہ ان سے دوستی کرو اور جو ان سے دوستی کرے تو وہی ستمگار ہیں ۔(پارہ 28،سورۃ المتحنہ ،آیت:9)
اس آیت مبارکہ میں کفارکے ساتھ دوستی سے منع کیا گیا،یہاں ان سے دوستی سے متعلق اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے کلام کا خلاصہ ملاحظہ ہو،
مُوالات (یعنی کفار کے ساتھ دوستی) کی دو قسمیں ہیں :
(1)…حقیقی موالات:اس کی ادنیٰ صورت قلبی میلان ہے،یہ تمام صورتوں میں ہر کافر سے مُطْلَقاً ہر حال میں حرام ہے البتہ طبعی میلان جیسے ماں باپ،اولادیا خوبصورت بیوی کی طرف غیر اختیاری طور پر ہوتا ہے یہ اس حکم میں داخل نہیں پھر بھی اس تَصَوُّر سے کہ یہ اللّٰہ و رسول کے دشمن ہیں اور ان سے دوستی حرام ہے،اپنی طاقت کے مطابق اس میلان کو دبانا یہاں تک کہ بن پڑے تو فنا کر دینا لازم ہے ،اس میلان کا آنا بے اختیار تھا اور اسے زائل کرنا قدرت میں ہے تو اسے رکھنا دوستی کو اختیار کرنا ہوا اور یہ حرامِ قطعی ہے اسی لئے جس غیر اختیاری چیز کے ابتدائی اُمور کسی شخص نے اپنے اختیار سے پیدا کئے تو اس میں اس کا کوئی عذر قابلِ قبول نہ ہو گا جیسے شراب سے عقل زائل ہو جانا اختیار میں نہیں لیکن جب اختیار سے پی تو عقل کا زوال اور اس پر جو کچھ مُرَتَّب ہواسب اسی کے اختیار سے ہو گا۔
(2)… صورۃً موالات:اس کی صورت یہ ہے کہ بندے کا دل کافر کی طرف اصلاً مائل نہ ہو لیکن اس سے برتاؤ ایسا کرے جو بظاہر محبت و میلان کا پتا دیتا ہو۔یہ ضرورت اور مجبوری کی حالت میں صرف ضرورت و مجبوری کی مقدار مُطْلَقاً جائز ہے اور بقدرِ ضرورت یہ کہ مثلاً صرف عدوات کااظہار نہ کرنے سے کام نکلتا ہو تو اسی قدر پر اِکتفاء کرے اور اظہارِ محبت کی ضرورت ہو تو حتّی الامکان پہلودار بات کہے، صراحت کے ساتھ اظہار کرنے کی اجازت نہیں ، اور اگر اس کے بغیر نجات نہ ملے اور دل ایمان پر مطمئن ہو تو صراحت کے ساتھ اظہار کی رخصت ہے اور اب بھی عزیمت یہی ہے کہ ایسا نہ کرے۔(فتاوی رضویہ، رسالہ: المحجۃ المؤتمنۃ فی اٰیۃ الممتحنۃ، جلد 14،صفحہ 465تا467،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
اس تفصیل سے معلوم ہواکہ کفار کی کھانے کی دعوت اور ان کے شادی بیاہ میں شرکت کرنے سے ان کی طرف قلبی میلان ہو گا ،لہذا ایسی دوستی رکھنا جائز نہیں اور ان کے ہاں شادی میں شرکت کرنا بھی جائز نہیں۔
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم