سوالنحو1 جواب
جواب دہندہ
لفظ حفاۃ اور عراۃ یہ دونوں باب ضرب سے آتے ہیں
اور ان کی تبدیلی درج ذیل قاعدہ کے مطابق ہوئی ہے
قاعدہ
اگر اسمِ فاعل کی جمع فَعْلَۃٌ کے وزن پر آئے اور اس کا لام کلمه حرفِ علت ہو تو اسے الف سے بدل کر فاء کلمہ کو ضمہ دینا واجب ہے
اصل میں یہ عَرَیَۃ حَفَیَۃ تھے
لام کلمہ (یاء) کو الف سے بدل کر فاء کلمہ ( عین اور حاء ) کو ضمہ دیا
عالۃ نصر ینصر باب سے ہے اور اصل میں یہ عَوَلَۃٌ تھا
واؤ متحرک ما قبل مفتوح کو الف سے بدلا تو عالۃ ہو گیا