اس سلسلے میں اصول یاد رکھیں کہ جس چیز سے بچنے میں حرجِ شدید (یعنی بچنا انتہائی مشکل) ہو تو ان اشیاء کے جسم میں داخل ہو نے کے باوجود روزہ نہیں ٹوٹے گا۔
جیسے فقہاء نے مثالیں بیان کیں۔"راستے کا گرد و غبار، آٹے کی چکی میں یا اس کے پاس کام کرنے والے کے لیے، سانس کے ذریعے اندر جانے والی آٹے کی معمولی مقدار،
دوا پیسنے یا کوٹنے والے کے لیے اس کا غبارمسجد یا مزارات پر، غیر ارادی طور پر اندر چلا جانے والا اگر بتی کا دھواں"
ہاں اگر ان امور میں جان بوجھ کر کوئی چیز اندر لے گیا تو روزہ فاسد ہو جائے گا جیسے جلتی اگر بتی کے قریب ناک لے جا کر، اس کا دھواں قصداً اندر کھینچا یا سگریٹ پی