Logo
کیا فرماتے ہیں علماے دین و مفتیان عظام اس مسئلہ میں کہ : ایک مقرر صاحب نے دوران تقریر اس طرح کے الفاظ کہے ہیں کہ کچھ انبیا پیدائشی نبی ہوتے ہیں جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور کچھ انبیا ایسے ہوتے جن کو بعد میں نبوت ملی جسے حضرت یوشع بن نون کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی خدمت کرتے رہے پھر ان کو نبوت عطا ہوئی ،پس جب مطالعہ کیا تو قرآن پاک میں جو میثاق کی آیت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام انبیا کے نبی ہونے کا ذکر ہے۔قرآن حکیم میں ہے:وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ النَّبِیّٖنَ لَمَاۤ اٰتَیْتُكُمْ مِّنْ كِتٰبٍ وَّ حِكْمَةٍ. تو اس آیت سے پتہ چلتا ہے کہ تمام انبیا پہلے ہی نبی ہوتے ہیں ، پیدائشی نبی ہوتے ہیں، البتہ اعلانِ نبوت الگ الگ وقت پر ہوا ہے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے پہلے ہی اعلانِ نبوت فرما دیا تھا ۔ اور قرآن حکیم میں ہے: اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ.اس آیت سے پتہ چلتا ہے۔ لیکن یہاں ایک اعتراض یہ ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دعا کی تھی: قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا تھا : وَ اجْعَلْ لِّیْ وَزِیْرًا مِّنْ اَهْلِیْ○هٰرُوْنَ اَخِی○۔تو ان کی دعا اللہ تعالی نے قبول فرمائی تھی ، اللہ فرماتا ہے : وَ وَهَبْنَا لَهٗ مِنْ رَّحْمَتِنَاۤ اَخَاهُ هٰرُوْنَ نَبِیًّا۔ تو اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ کبھی کبھی کچھ انبیا کو بعد میں نبوت عطا کی گئی ہے۔ تو کیا اسی طرح ہے یا تمام انبیا پیدائشی نبی ہوتے ہیں ۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت فرمادیں ۔