متعلقہ موضوعات
متعلقہ سوالات
عقائد
1
کیا فرماتے ہیں علماے دین و مفتیان عظام اس مسئلہ میں کہ : ایک مقرر صاحب نے دوران تقریر اس طرح کے الفاظ کہے ہیں کہ کچھ انبیا پیدائشی نبی ہوتے ہیں جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور کچھ انبیا ایسے ہوتے جن کو بعد میں نبوت ملی جسے حضرت یوشع بن نون کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی خدمت کرتے رہے پھر ان کو نبوت عطا ہوئی ،پس جب مطالعہ کیا تو قرآن پاک میں جو میثاق کی آیت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام انبیا کے نبی ہونے کا ذکر ہے۔قرآن حکیم میں ہے:وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ النَّبِیّٖنَ لَمَاۤ اٰتَیْتُكُمْ مِّنْ كِتٰبٍ وَّ حِكْمَةٍ. تو اس آیت سے پتہ چلتا ہے کہ تمام انبیا پہلے ہی نبی ہوتے ہیں ، پیدائشی نبی ہوتے ہیں، البتہ اعلانِ نبوت الگ الگ وقت پر ہوا ہے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے پہلے ہی اعلانِ نبوت فرما دیا تھا ۔ اور قرآن حکیم میں ہے: اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ.اس آیت سے پتہ چلتا ہے۔ لیکن یہاں ایک اعتراض یہ ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دعا کی تھی: قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا تھا : وَ اجْعَلْ لِّیْ وَزِیْرًا مِّنْ اَهْلِیْ○هٰرُوْنَ اَخِی○۔تو ان کی دعا اللہ تعالی نے قبول فرمائی تھی ، اللہ فرماتا ہے : وَ وَهَبْنَا لَهٗ مِنْ رَّحْمَتِنَاۤ اَخَاهُ هٰرُوْنَ نَبِیًّا۔ تو اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ کبھی کبھی کچھ انبیا کو بعد میں نبوت عطا کی گئی ہے۔ تو کیا اسی طرح ہے یا تمام انبیا پیدائشی نبی ہوتے ہیں ۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت فرمادیں ۔
21 اکتوبر، 2024Abdul Qudoos
جواب دہندہ
A
حضرت سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی دعا اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی اور حضرت سیدنا ہارون علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اعلانِ نبوت کا حکم ہوا ۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان کی نبوت کسبی ہے ۔ یہ اپنی جگہ پر حق ہے کہ نبوت وہبی ہے اور ولایت بھی وہبی ہے جس پر آپ کی نقل کردہ آیت کر یمہ” وَ وَهَبْنَا لَهٗ مِنْ رَّحْمَتِنَاۤ “ گواہ ہے ۔ اللہ تعالی نے فرمایا کہ ہم نے ان کو ہبہ کیا تو ” وَهَبْنَا “کی اضافت اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف کی ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ نبوت وہبی ہے ، کسبی نہیں ہے ۔ اور ” مِنْ رَّحْمَتِنَاۤ “فرمایا ” اپنی رحمت سے ہم نے ایسا کیا“۔ یہ نہیں ہے کہ” من دعاء موسیٰ“ اس طرح کا کوئی لفظ نہیں کہا گیا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کی دعا سے یا موسیٰ علیہ السلام کے عرض کرنے سے نہیں، ”مِنْ رَّحْمَتِنَاۤ “فرمایا ۔
موسیٰ علیہ السلام نے دعا کی یہ اپنی جگہ پر حق ہے مگر اللہ نے جو نبوت عطا فرمائی حضرت سید نا ہارون علیہ السلام کو یہ محض اللہ کے فضل و رحمت سے ہے، یہاں کسب کو کوئی دخل نہیں ہے ۔ وہ علمِ الٰہی میں پہلے ہی سے نبی تھے، جیسا کہ تمام انبیاے کرام ومرسلینِ عظام علیہم الصلوات والتسلیمات علمِ الٰہی میں پہلے ہی سے نبی اور رسول تھے مگر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اس کا علم نہیں تھا۔ اس لئے انہوں نے دعا کی اور اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا کو قبول فرمایا اور جو اللہ کے پہلے سے نبی تھے تو اللہ نے ان کی نبوت کو ظاہر فرما دیا ، ان کی نبوت کو ظاہر کر دینا جو پہلے سے علم الٰہی میں تھا، اسی اظہار کا نام قبول ہو گیا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ” وَ وَهَبْنَا لَهٗ مِنْ رَّحْمَتِنَاۤ “ فرمایا کہ سب کچھ اللہ کی رحمت سے ہوا۔ اور قبول دعا کا مطلب صرف اتنا ہےکہ اللہ تعالی کے علم میں وہ پہلے سے نبی تھے مگر اس کا اظہار نہیں ہوا تھا۔ آپ نے قبولیت دعا کے طور پر ان کی نبوت کا اظہار فرما یا ۔
حضرت یوشع بن نون علیہ الصلوٰۃ والسلام کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے کہ حضرت سیدنا موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت کی برکت سے ان کو نبوت نہیں ملی ہے۔ نبوت کسبی نہیں ہے بلکہ وہ بھی اللہ کی رحمت عالیہ اور اس کا فضل ہے ۔ مزید مذکورہ آیات کی تفسیر آپ تحقیق کے طور پردیکھ سکتے ہیں۔
یہ اپنی جگہ مسلّمات میں سے ہے کہ انبیا کی نبوت ، مرسلین عظام کی رسالت اور اولیاءاللہ کی ولایت یہ سب وہبی ہیں، ان میں سے کوئی کسبی نہیں ہے، ہاں بظاہر کہیں مجاہده نظر آتا ہے کہ اولیاء اللہ مجاہدہ کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کو ولایت عطا فرماتا ہے ۔ لیکن مجاہدہ سبب نہیں ہے اور یہ کسب نہیں ہے ولایت کے لیے۔ بس یہ کہ اللہ تبارک و تعالیٰ راضی ہو تا ہے اور اپنے فضل خاص سے انھیں ولایت دے دیتا ہے۔
انبیاے کرام کو بھی اللہ تعالیٰ اپنے فضل خاص سے اپنی رحمت سے نبوت دے دیتا ہے اس میں کسی کے بھی کسب کا دخل نہیں ہے ۔
واللہ تعالٰی اعلم