سوالنحو1 جواب

حضور پھر یہ تو وضاحت کر دیں نا کے لفظ صحیح میں ایسی کونسی چیز ہے جو اسے صفت مشبہ بنا رہی ہے اور لفظ دلیل میں ایسی کیا چیز نہیں ہے جو اسے صفت مشبہ نہیں بنا رہی؟؟؟اسی وضاحت کے لیے پہلے بھی سوال کیا تھا؟؟؟

Abdul RahmanAbdul Rahman21 جون، 2025

جواب دہندہ

شہزاد عابد
شہزاد عابد

اسلامک ڈیسک معاون

راجن پور،روجھان

·

معذرت آپ نے وزن کے اشتراک پر بات کی تھی تو پہلا جواب اسی مناسبت سے تھا بہر حال مکمل جواب یہ رہا عموما عربی زبان کے اوزان مشترک ہوتے ہیں جیسے کہ فعیل کا وزن ہی دیکھ لیں یہ صفت مشبہ اسم مبالغہ اور مصدر میں بھی پایا جاتا ہے اور اس کے علاوہ اسم جامد کا بھی ایک وزن ہے تو یہ پہچان کرنا کہ آپ کا محل بحث لفظ کس قسم سے ہے تو یہ معانی پر انحصار کرتا ہے یعنی اگر لفظ صحیح کو دیکھیں تو یہ صفت کا معنی دیتا ہے جیسے ہم کہتے ہیں ھو الصحیح تو اس کا مطلب ہوا وہ قول یا فعل یا بندہ صحیح ہے تو یہاں صحیح ہونا بطور صفت ہے جو کسی ذات کے ساتھ قائم ہے البتہ دلیل کا معنی ہوتا ہے نشانی وغیرہ تو نشانی کوئی صفتی معنی نہیں ہے بلکہ یہ جامد ہے